.

امریکا:سوسان رائس صدراوباما کی قومی سلامتی کی مشیر ہوں گی

سمنتھا پاور کو اقوام متحدہ میں امریکا کی نئی سفیر مقرر کیا جارہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما اقوام متحدہ میں سفیر سوسان رائس کو اپنی قومی سلامتی کونسل کی مشیر مقرر کررہے ہیں۔

ایک امریکی عہدے دار کے مطابق سوسان رائس کا بدھ کو تقرر کیا جارہا ہے اور وہ جولائی میں قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونلین کی جگہ عہدہ سنبھالیں گی۔ان کی جگہ اقوام متحدہ میں سمنتھا پاور کو امریکی سفیر مقرر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ سوسان رائس اس سال کے آغاز میں براک اوباما کی دوسری مدت صدارت میں ہلیری کلنٹن کی سبکدوشی کے بعد وزیرخارجہ بننے کی مضبوط امیدوار تھیں لیکن ان کی قسمت نے یاوری نہیں کی اور ری پبلکنز کی مخالفت کے بعد ان پر سینیٹر جان کیری کو ترجیح دے کر سیکرٹری آف اسٹیٹ مقرر کردیا گیا تھا۔اب ان کے نئے تقرر کی سینیٹ سے منظوری ضروری نہیں ہے۔

سوسان رائس کو لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں گیارہ ستمبر 2012ء کو امریکی قونصل خانے پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا اور اس واقعے کی ذمے داری ان پر بھی عاید کی گئی تھی۔بن غازی میں حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار اہلکار مارے گئے تھے۔

ان پر ری پبلکن پارٹی نے الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے بن غازی میں پیش آئے واقعے سے متعلق امریکی عوام کو جان بوجھ کر گمراہ کیا تھا۔تاہم حال ہی میں امریکی عہدے داروں کی منظرعام پر آنے والے ای میلز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا اس حملے میں کوئی کردار نہیں تھا بلکہ یہ حملہ اچانک ہوا تھا۔

سوسان رائس سابق صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ میں افریقی امور سے متعلق اسسٹینٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ رہی تھیں اور 2008ء سے صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی سے متعلق قریبی مشیروں میں سے ایک ہیں۔

ان کے پیش رو صدر اوباما کے قومی سلامتی کے سبکدوش ہونے والے مشیر ٹام ڈونیلن نے عراق سے امریکی فوج کے انخلاء ،افغانستان سے آیندہ سال کے آخر تک امریکی لڑاکا فوج کی واپسی اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے مئی 2011ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں شب خون کارروائی سے متعلق فیصلوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مسٹر ڈونیلن نے امریکا کی چین کے بارے میں خارجہ پالیسی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے چینی صدر ژی جین پنگ کے کیلی فورنیا کے دورے کو حتمی شکل دینے کے سلسلہ میں حال ہی میں بیجنگ کا سفر کیا تھا۔چینی صدر اسی ہفتے صدر اوباما سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی نئی مقرر ہونے والی سفیر سمنتھا پاور صدر اوباما کی انسانی حقوق سمیت مختلف امور کی معاون خصوصی رہی ہیں اور وہ''امریکا کی خارجہ پالیسی اور نسل کشی'' کے موضوع پر ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔انھیں اس کتاب پر پلٹزر انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔