.

ترک مظاہرین نے حکومتی معذرت مسترد کر دی، مظاہرے جاری

"مظاہرے ایردوآن حکومت کے لئے بڑا چیلینج ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکومت کی جانب سے معذرت کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کے روز بھی ہزاروں مظاہرین ترکی کے مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہروں کے لیے نکلے ہیں۔ مبصرین ان مظاہروں کو ایردوآن حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق استنبول، انقرہ اور جنوبی شہر حاہاٹے میں پولیس کی وارننگ کو نظرانداز کرنے والے مظاہرین کے خلاف پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار پھینکنے والے آلے کا سہارا لیا۔ حاٹائے وہی شہر ہے، جہاں گزشتہ روز مظاہروں میں شریک ایک نوجوان ہلاک ہو گیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق استنبول میں وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے دفتر کے قریب مظاہرے میں شریک ایک نوجوان پولیس کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کی وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا، ’تم نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے، اب بہت ہو چکا۔‘

ایردوآن حکومت نے زخمی مظاہرین سے معافی مانگ کر امریکی تعریف تو حاصل کر لی، تاہم اس معافی کا حکومت مخالف ان مظاہروں پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

استنبول کے تقسیم چوک پر جمع ہزاروں مظاہرین وزیراعظم ایردوآن کی نافرمانی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ وزیراعظم ایردوآن نے اس سے قبل مظاہرین کو ’شدت پسند‘ اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت توڑ پھوڑ مچانے والے’وحشی‘ قرار دیا تھا۔ رجب طیب ایردوآن اپنے چار روزہ دورے کے دوسرے روز منگل کو الجزائر میں تھے، تاہم تقسیم چوک پر مظاہرین نعرے لگا رہے تھے، ’وحشی یہاں ہیں، طیب کہاں ہے؟‘

اے ایف پی کے مطابق مظاہرین الزام عائد کر رہے ہیں کہ مسلسل تین مرتبہ قومی انتخابات جیتنے والے ایردوآن اور ان کی جماعت AKP نے دستوری طور پر سیکولر ترکی میں قدامت پسند اسلامی اصلاحات نافذ کیں ہیں۔ ایک 24 سالہ طالب علم دیدم کل نے اے ایف پی سے کہا، ’اگر حکومت پیچھے ہٹی، اگر انہوں نے ترکی میں وہ سب تبدیل کیا، جو وہ اب تک کرتے رہے ہیں، تو مظاہرین گھروں کو لوٹ جائیں گے۔‘

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ پانچ روز تک سخت تناؤ کے ماحول کے مقابلے میں بدھ کے روز مظاہروں میں جشن کا سا سماں دکھائی دیا، مظاہرین مقامی آلات موسیقی اور تالیا بجاتے ہوئے حکومت مخالف گیت گا رہے ہیں۔

اس سے قبل ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرنک نے زخمی مظاہرین سے معذرت طلب کی تھی۔ واضح رہے کہ ترکی میں جمعے کے روز تقسیم چوک پر ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کے معاملے پر احتجاج شروع ہوا تھا، تاہم پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بعد یہ مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے اور پانچ روز گزر جانے کے باوجود ان میں کمی کی بجائے اضافہ ہی دیکھا گیا ہے۔