.

ترک مظاہرین کا حکومت سے استنبول منصوبے سے دستبرداری کا مطالبہ

نائب وزیراعظم کی زخمیوں سے معذرت کے بعد بھی ملک بھر میں مظاہرے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکومت کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش ایک گروپ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استبول میں پارک کی تعمیر کے متنازعہ منصوبے سے دستبردار ہوجائے اور مظاہروں کے دوران تشدد میں ملوث گورنروں اور پولیس سربراہوں کو برطرف کرے۔

تقسیم یک جہتی گروپ کے ارکان نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے نائب وزیراعظم بلند آرینچ کے ساتھ انقرہ میں ملاقات میں اپنے مطالبات پیش کردیے ہیں۔انھوں نے مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی ،پولیس کی جانب سے اشک آور گیس کے استعمال پر پابندی اور آزادیٔ اظہار کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران احتجاجی مظاہروں میں تشدد کے استعمال پر معذرت کی ہے لیکن اس کے باوجود انقرہ اور استنبول میں آج صبح پولیس نے ایک مرتبہ پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

مظاہرین دونوں شہروں میں انتباہ کے باوجود وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے دفاتر کی جانب جانے کی کوشش کررہے تھے۔شام کی سرحد کے ساتھ واقع جنوبی شہر حاتائی میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔اس شہر میں گذشتہ روز احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا ایک بائیس سالہ نوجوان دم توڑ گیا تھا۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کی اطلاع کے مطابق مغربی شہر ازمیر میں پولیس نے ٹویٹر پر گمراہ کن تحریریں پوسٹ کرنے کے الزام میں پچیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم بلند آرینچ نے گذشتہ روز مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہونے والے حقیقی مظاہرین سے معذرت کی تھی۔البتہ انھوں نے بلووں میں ملوث افراد سے کوئی معذرت نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان مظاہروں سے سبق سیکھ لیا ہے اور کوئی بھی جمہوریت حقیقی اپوزیشن کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی ہے۔امریکا نے ان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔

لیکن ترک حکومت کے خیرسگالی کے اس جذبے کے باوجود مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا اور استنبول کے تقسیم اسکوائر میں بدھ کو مسلسل چھٹے روز جمع ہو کر مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان پر سیکولر ترکی میں اسلامی اصلاحات نافذ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

استنبول اور دوسرے شہروں میں گذشتہ جمعہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں اور دو افراد مارے گئے ہیں۔مظاہرین نے زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ صرف تین سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔پولیس نے سترہ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیاتھا۔البتہ ان میں سے بیشتر کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ استنبول میں معروف تقسیم اسکوائر کے نزدیک ایک پارک کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے جو ملک کے دوسرے سڑسٹھ شہروں تک پھیل گئے جبکہ وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے بدامنی کے باوجود اس متنازعہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا ہے۔ترک حکام کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت تقسیم چوک کے نزدیک ایک شاپنگ مال تعمیر کیا جائے گا اور سابق خلافت عثمانیہ کے دور کی فوجی بیرکوں کی تعمیرنو کی جائیں گی۔