.

غیر ملکی انجمنوں کے خلاف مصری عدلیہ کے فیصلوں پر امریکی تنقید

انسانی حقوق کارکنوں کی گرفتاری جمہوریت کی ضد ہے: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے غیر ملکیوں اور مصری شہریوں کے خلاف عدالتی احکامات کو 'سیاسی ٹرائل' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی طور پر سرگرم مصری شہریوں کی گرفتاری کے احکامات معاشرتی آزادی کے عالمی معیار کی خلاف ورزی ہیں۔ 'ایسے فیصلے اور جمہوریت کے ساتھ لگا نہیں کھاتے۔'

یاد رہے کہ مصری ذرائع ابلاغ میں غیر ملکیوں کو سزا کے مقدمات کو "غیر ملکی فنڈنگ" کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین بساکی کا کہنا ہے کہ مصر میں سول انجمنوں کی تالا بندی اور ان کے اثاثہ جات کی بحق سرکاری ضبطی ایسی تنظیموں کے معاشرے میں مثبت کردار کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اقدام مصر کے جمہوریت کی جانب سفر سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

مصری عدالتی فیصلوں سے متاثر ہونے والی انجمنوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں ان فیصلوں کی مذمت کی ہے۔ ان میں نمایاں وہ امریکی کارکن ہیں جن کا تعلق 'ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ' اور 'فریڈم ہاؤس' سے بتایا جاتا ہے۔ ان انجمنوں کے بہ قول فیصلہ حکومتی کرپشن کا مظہر ہے۔ یہ کرپشن مالی نہیں بلکہ اس کا تعلق سیاسی بے راہ روی ہے۔

مصری عدالتوں کے ان سول انجمنوں کے خلاف جاری ہونے والے فیصلوں سے ابتک 43 افراد متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں انجمنوں کی تالا بندی کی جا چکی ہے۔

جین بساکی نے مزید کہا کہ ان کا ملک غیر حکومتی انجمنوں کو جمہوری زندگی کا اہم جزو سمجھتا ہے۔ امریکی انجمنوں کا خیال کہ صدر محمد مرسی کی حکومت اپنے شہریوں کو پرانے دور کی طرف گھسیٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ مرسی کے دور حکومت میں ہو رہا ہے، وہ حسنی مبارک کے دور سے بھی زیادہ خراب ہے۔

اس تمام صورتحال کے علی الرغم امریکا نے مصر کے لئے اپنی سالانہ امداد کو وہاں پر انسانی حقوق کے ایڈیکس سے مشروط نہیں کیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ سیکیورٹی مفادات کو جمہوری ایشوز سے الگ کر کے دیکھ رہا ہے۔ بساکی کے مطابق قاہرہ کے لئے امریکی امداد مشترکہ علاقائی مفادات کی عکاس ہے اور اس کے ذریعے سے گزشتہ تیس برسوں سے امن و استحکام میں مدد مل رہی ہے۔