.

فرانس یک طرفہ طور پر شام میں مداخلت نہیں کرے گا

شام سے متعلق کوئی فیصلہ کرنا عالمی برادری کا کام ہے: ترجمان فرانسیسی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ فرانس یک طرفہ طور پر شام میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔

فرانسیسی حکومت کی خاتون ترجمان نجات ولود بلکاجیم نے بدھ کو پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فرانس شام میں فوجی مداخلت سے متعلق یک طرفہ طور پر اور تنہا کوئی بھی فیصلہ نہیں کرے گا۔اب اس ضمن میں کوئی فیصلہ کرنا عالمی برادری کا کام ہے''۔وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد منظرعام پر آنے کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے صحافیوں کے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے گذشتہ روز کہا تھا کہ شام سے آنے والے کیمیائی نمونوں کے ٹیسٹوں کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ وہاں زہریلی گیس سیرن کا متعدد مرتبہ استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے ''فرانس 2'' ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ٹیسٹوں کے نتائج سے اقوام متحدہ کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ان کے الفاظ میں:''یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمے داروں سے کوئی بازپرس نہ کی جائے اور انھیں سزا کے بغیر ہی چھوڑ دیا جائے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کم سے کم ایک کیس میں اس امر کی شہادت ملی ہے کہ شامی رجیم اور اس کے حامیوں نے اعصاب شکن کیمیائی گیس استعمال کی ہے۔ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ممکنہ اقدام کے بارے میں بات چیت کریں گے اور اس وقت مسلح کارروائی سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں''۔

فرانسیسی وزیرخارجہ کے اس بیان کے بعد برطانیہ نے بھی شام میں سیرن گیس کے استعمال کی تصدیق کردی ہے۔تاہم امریکا نے ابھی تک اس معاملے میں محتاط طرز عمل اختیار کررکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سیرن گیس کے استعمال سے متعلق مزید شواہد کے جائزے کی ضرورت ہے۔