.

ایتھوپیا میں متعین مصری سفیر کی ڈیم کے ایشو پر طلبی

مصری سیاست دانوں کے ڈیم کو اڑانے سے متعلق بیان کی وضاحت طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایتھوپیا کی حکومت نے مصری سفیر کو طلب کر کے ان سے قاہرہ میں ایک اجلاس کے دوران مصری سیاست دانوں کے ایک سخت بیان کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

ایتھوپیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈینا مفتی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سفیر کو مخالفانہ ریمارکس کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔بعض مصری سیاست دانوں نے ڈیم کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔

درایں اثناء ایتھوپیا نے مصر کی مخالفت کے باوجود دریائے نیلا نیل پر ڈیم کی تعمیر جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ایتھوپیائی وزیراعظم کے ترجمان گیتاشو رضا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اپنے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھیں گے اور اس کے لیے مصری سیاست دانوں کی مرضی پر انحصار کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی''۔

قبل ازیں مصری وزیرخارجہ محمد کامل عمرو نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک ڈیم کے ایشو پر سوڈان اور ایتھوپیا سے رابطہ کرے گا۔تاہم گذشتہ روز ایک مصری عہدے دار نے کہا تھا کہ ایتھوپیا سے ڈیم کی تعمیر بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بعض مصری سیاست دانوں نے گذشتہ سوموار کو صدر محمد مرسی کی صدارت میں ایک آن کیمرا اجلاس کے دوران ایتھوپیا میں تعمیر کیے جانے والے ڈیم کو بم سے اڑانے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ تخریب کاری کے اس عمل میں جنگجوؤں کو استعمال کیا جائے۔مصری صدر نے اس تجویز پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا اور صرف یہ کہا تھا کہ مصر ایتھوپیا اور اس کے عوام کا احترام کرتا ہے اور ان کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہیں کرے گا۔

تاہم ان کے ایک مشیر نے گذشتہ روز خبردار کیا تھا کہ دریائے نیل پر ایتھوپیا کی جانب سے ڈیم کی تعمیر سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز کھلے ہیں۔صدر کے مشیر ایمن علی نے کہا کہ ''یہ مصر کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے۔دوسرے لوگوں کو اپنے مفادات کی پیروی کا حق حاصل ہے لیکن ایتھوپیا کی جانب سے ہمیں اس یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ اس کے ڈیم سے مصر پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے اوراگر ایسا ہوتا ہے تو پھر تمام آپشنز کھلے ہیں''۔

صدر کی خاتون مشیر پاکینم الشرکاوی کا کہنا ہے کہ ''مصر ایتھوپیا سے دریائے نیلا نیل پر ڈیم کی تعمیر بند کرنے کا مطالبہ کرے گا اور یہ مطالبہ ہمارا پہلا قدم ہوگا''۔انھوں نے کہا کہ ایوان صدر اس ڈیم کو مصر کے لیے قومی سلامتی کا ایک ایشو سمجھتا ہے۔

واضح رہے کہ مصر دریائے نیل کے پانی پر اپنا حق فائق سمجھتا ہے اوراس کا یہ موقف ہے کہ اس دریا کے پانی کو استعمال کرنے کا ترجیحی حق اسے ہی حاصل ہے۔ خود صدر محمد مرسی نے بھی اسی ہفتے کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کو دریائے نیل کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا۔

ایتھوپیا دریائے نیلا نیل پر''عظیم نشاۃ ثانیہ ڈیم'' تعمیر کررہا ہے۔اس مقصد کے لیے اس نے دریا کے قدرتی بہاؤ کا پانچ سو میٹر تک رخ موڑ دیا ہے۔پن بجلی پیدا کرنے کے اس منصوبے پرلاگت کا تخمینہ چار ارب بیس کروڑ ڈالرز لگایا گیا ہے۔ایتھوپیا کے اس ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کا پہلا مرحلہ تین سال میں مکمل ہوگا۔اس سے سات سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور تمام ڈیم کی تکمیل کے بعد چھے ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا ہو سکے گی۔