.

برطانیہ کے ایک اسلامی مرکز میں آتشزدگی کا 'مشکوک' واقعہ

نذر آتش مسجد کی دیوار پر نسل پرست تنظیم کے نام کا مخفف درج تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی لندن میں واقع الرحمہ اسلامک مرکز کو مبینہ طور پر نسلی حملے میں نامعلوم افراد نے آگ لگا کر تباہ کر دیا۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے اس واقعہ میں ایک نسل پرست تنظیم انگلش ڈیفنس لیگ ملوث ہے جو برطانوی فوجی کے قتل کے خلاف پرتشدد مظاہرے کرتی رہی ہے۔ شمالی لندن میں واقع یہ اسلامی مرکز صومالیہ سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کا ہے اور آتشزدگی سے تباہ ہونے والی عمارت کے کچھ حصوں پر ای ڈی ایل کے الفاظ تحریر کیے گئے ہیں، جو انگلش ڈیفنس لیگ کو مختصرا ًظاہر کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں جو بھی ذمہ دار ہوا، اُسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ لندن پولیس کی انسداد دہشت گردی سیل اس آتشزدگی کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اسلامی مرکز کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ یہ واقعہ کچھ دنوں پہلے ولوچ میں ایک برطانوی فوجی کے قتل کے بدلے کی کارروائی ہے۔

الرحمہ مرکز کے ایک رکن ابوبکر علی کا کہنا ہے کہ ”صومالی نژاد افراد بہت خوفزدہ ہیں۔ جو کچھ بھی ہوا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے میں کوئی فرد زخمی نہیں ہوا،لیکن اس مجرمانہ کارروائی آئندہ اثرات ظاہر ہوتے رہیں گے۔“

لندن پولیس کے ایک افسر اے ڈرين اشر نے کہا کہ تمام کمیونٹیز کی حفاظت کرنا پولیس کی اولین ترجیح میں شامل ہے۔ انہوں نے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ “تمام کمیونٹی کے لوگ اس بات کا یقین رکھیں کہ ان کو ہماری حمایت حاصل ہے اور ان کو کوئی بھی پریشانی ہو، وہ براہ راست ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔”

یاد رہے کہ بدھ کی صبح تقریبا تین بجے نامعلوم افراد نے مرکز کو آگ لگا دی لیکن کوئی بھی زخمی نہیں ہوا، البتہ بی بی سی اس حملے سے ایک خاتون کو کافی ذہنی صدمہ پہنچا ہے، جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔ واقعہ صبح کے وقت پیش آیا، پینتیس فائر فائٹرز نے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں فوجی کے قتل کے بعد مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ لندن کے علاقے وول ایچ میں برطانوی فوجی کو دو ہفتے پہلے قتل کیے جانے کے بعد سے اب تک دو مساجد پر حملے کیے جاچکے ہیں جبکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے دو سو بائیس واقعات رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

جنوبی لندن کے کمیونٹی سینٹر پر حملے کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ الرحمہ اسلامی مرکز میں بچوں کو ناظرہ قرآن اور بنیادی اسلامی تعلیم دی جاتی تھی۔ علاقے کی مسلم کمیونٹی کا کہنا ہے کہ فوجی کو قتل کرنے والے ایک مجرم کا بدلہ اسلامی مراکز پر حملوں سے لیا جا رہا ہے، جس کا برطانوی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے۔