.

سعودی مفتیٔ اعظم:حزب اللہ سے متعلق علامہ قرضاوی کے مؤقف کی تحسین

کبارعلماء لبنانی تنظیم کو شروع دن سے فرقہ پرست گروہ سمجھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے عالمی شہرت یافتہ عالم دین علامہ شیخ یوسف القرضاوی کے ایران اور حزب اللہ مخالف موقف کی تائید وتحسین کی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی مفتیٔ اعظم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سعودی مملکت کے کبار علماء شروع دن سے ہی حزب اللہ کو ایک فرقہ پرست جماعت سمجھتے ہیں اور اس وقت وہ شام میں ہمارے شامی بھائیوں کے خلاف ایک ظالم اور جابر حکومت کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے''۔

عالمی مسلم علماء یونین کے صدر علامہ یوسف القرضاوی نے گذشتہ ہفتے کے روز لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی شام میں عسکری مداخلت کی مذمت کی تھی اور مسلمانوں سے اس کے خلاف جہاد کی اپیل کی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق علامہ یوسف قرضاوی نے قطری دارالحکومت دوحہ میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ''جو کوئی بھی مسلمان لڑائی کے لیے تربیت یافتہ ہے اور وہ جنگ لڑسکتا ہے تو وہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اللہ کے خلاف جہاد میں شرکت کرے''۔

انھوں نے سوال کیا کہ ''ایران شام میں اپنے آدمی اور ہتھیار بھیج رہا ہے ،اس صورت حال میں ہم کیوں آرام سے بیٹھ رہے ہیں''۔انھوں نے حزب اللہ کو شیطان کی جماعت قرار دیا حالانکہ عربی میں حزب اللہ کا مطلب اللہ کی جماعت ہے۔

علامہ قرضاوی نے کہا کہ ''حزب الشیطان کا لیڈر سنیوں سے لڑائی کے لیے آرہا ہے۔اب ہم یہ جانتے ہیں کہ ایرانی کیا چاہتے ہیں۔وہ اہل سنت کا قتل عام چاہتے ہیں''۔انھوں نے سوال کیا کہ دنیا بھر میں رہنے والے دس کروڑ اہل تشیع ایک ارب ستر کروڑ سُنیوں کو کیسے شکست دے سکتے ہیں۔صرف اس وجہ سے کہ سُنی مسلمان کمزور ہیں۔

شیخ قرضاوی نے برملا اعتراف کیا کہ انھوں نے ماضی میں سعودی علماء کے سامنے حزب اللہ اور ایران کی حمایت کرکے غلطی کی تھی۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''میں نے نام نہاد نصراللہ اور ان کی شیطانی جماعت کی سعودی عرب میں علماء کے سامنے حمایت کی تھی لیکن لگتاہے کہ سعودی علماء اس معاملے میں مجھ سے زیادہ بالغ نظر تھے''۔ان کا اشارہ سعودی علماء کے ابتداء ہی سے حزب اللہ مخالف مؤقف کی جانب تھا۔