.

سقوط القصیر، ایران اور حزب اللہ کا مرہون منت ہے: واشنگٹن

شامی حکومت کے اہم اسٹرٹیجک مرکز پر حملہ، شدید امریکی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاٶس نے لبنانی سرحد کے قریب واقع القصیر شہر پر حزب اللہ جنگجوٶں کی مدد سے شامی فوج کے قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے. امریکا نے حزب اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام سے اپنے جنگجو فوری طور پر واپس بلائے.

وائٹ ہاٶس کے ترجمان جے کارنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا، شامی فوج کے القصیر پر حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے. حملے میں لاتعداد شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس کارروائی کے نتیجے میں بہت زیادہ انسانی مسائل پیدا ہوئے ہیں.

کارنی نے مزید کہا کہ یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ بشار الاسد کی فوج اپنے طور پر اپوزیشن جنگجوٶں سے القصیر شہر کا قبضہ چھڑانے کے قابل نہ تھی. دمشق نے اس مقصد کے لئے القصیر آپریشن میں شامی فوج کی مدد کے لئے حزب اللہ اور ایران سے تعاون حاصل کیا.

القصیر کا اہم محل وقوع

القصیر شام اور لبنان کے بیچ ایک اہم سپلائی رووٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ چند روز سے اس علاقے میں شامی حکومتی فورسز اور اُن کی حلیف لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں اور مسلح باغیوں کے مابین گھمسان کی جنگ جاری تھی۔

شامی فورسز اور ان کی لبنانی اتحادی حزب اللہ نے سرحدی شہر القصیر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اسے ان باغی جنگجوؤں کی ایک اہم اسٹریٹیجک شکست تصور کیا جا رہا ہے، جو دو سال سے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے لیے بر سر پیکار ہیں۔

عالمی برادری کی مذمت

اسٹریٹیجک حوالے سے شام کے اہم علاقے القصیر پر حکومتی فورسز کا کنٹرول باغیوں سمیت بین الاقوامی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہے۔ اس امر کی تصدیق خود شامی باغیوں کے ذرائع نے بھی کی ہے، جنہوں نے کہا ہے کہ شامی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کی اس جیت کے بعد وہ اپنے ہتھیاروں سمیت القصیر سے نکل گئے ہیں۔

حزب اللہ کے ایک جنگجو نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ القصیر راتوں رات جارحیت کا میدان بن گیا۔ فجر کے بعد اس علاقے میں بکتر بند گاڑیوں اور فوجیوں کو سڑکوں پر بلا روک ٹوک نقل و حرکت کی اجازت مل گئی۔ حزب اللہ کے جنگجو نے اپنے بیان میں کہا، 'ہم خود پر ہونے والے کسی بھی حملے کو کچلنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے اور کسی نے بھی حملہ کیا تو اُس کا جواب ہم آہنی ہاتھوں سے دیں گے۔ باغیوں کا مقدرہے، ہتھیار ڈالنا یا پھر موت‘۔

درایں اثناء شامی مسلح افواج کے ایک کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا ہے،'ہم اپنی فتح کا سلسلہ اُس وقت تک جار ی رکھیں گے جب تک ہم ملک کا ایک ایک انچ حصہ دوبارہ اپنے قبضے میں نہیں لے لیتے‘۔

ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ شامی حکومت نے اپنے ملک میں جاری بحران کے دوران سارین گیس استعمال کی ہے۔ اُن کے بقول شامی حکومت کی طرف سے کئی بار نرو ایجنٹ نامی کیمیائی مادے کا استعمال کیا گیا۔ فرانسیسی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ جنہوں نے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، انہیں سزا دی جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اُن کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف نے اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ ایک ایسی کانفرنس منعقد کی جائے جو گزشتہ جون میں ہونے والی جنیوا کانفرنس میں شام میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے طے پانے والے منصوبے کو آگے بڑھانے کا سبب بنے۔ تاہم جنیوا کانفرنس میں طے پانے والے معاہدے پر اب تک عمل در آمد نہیں ہو سکا ہے۔