.

ایردوآن کا تقسیم چوک کے تعمیرنو منصوبہ پرعمل درآمد کا اعلان

حکومت مخالف مظاہروں میں غیر ملکی ہاتھ کارفرما ہے:تیونس میں نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے استنبول کے تقسیم اسکوائر کے نزدیک عثمان بیرکوں کی تعمیر کے منصوبے پرعمل درآمد کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ اس منصوبے کے مخالف ترکوں نے احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تیونس میں جمعرات کو اپنے تیونسی ہم منصب علی العریضی کے ساتھ ملاقات کے بعد انھوں نے مشترکہ نیوز کانفرنس کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں غیرملکی ہاتھ کارفرما ہے۔استنبول میں سات غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے پاس غیرملکی سفارت پاسپورٹس نہیں تھے۔

انھوں نے مظاہرین پر زوردیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور مقررہ جگہوں پر ہی مظاہرے کریں۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کرنے والوں کو انتہا پسند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی تک ہر چیز معمول پر آجائے گی۔

وزیراعظم ایردوآن کے غیرملکی دورے کے موقع پر ان کی حکومت کے خلاف ترکی میں احتجاجی مظاہروں میں کمی کے بجائے شدت آئی ہے اور ان کے مخالفین نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔جنوبی شہر عدنہ میں بدھ کو حکومت مخالف مظاہرین کا پیچھا کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار گر کر زخمی ہوگیا اور وہ بعد میں دم توڑ گیا ہے۔ترکی کے مختلف شہروں میں گذشتہ سات روز سے جاری احتجاجی مظاہروں میں کسی پولیس اہلکار کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔اس سے پہلے مظاہروں کے دوران دو نوجوان مارے گئے تھے۔

ترکی کی ایک بڑی ٹریڈ یونین کے ہزاروں کارکنان بھی گذشتہ روز حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوگئے تھے اور انھوں نے استنبول اور انقرہ میں احتجاجی مارچ کیا تھا۔انھوں نے یونین کے سفید اور سرخ رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔وہ احتجاج کے دوران رجب طیب ایردوآن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

ترک حکومت کے خلاف گذشتہ جمعہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ان کی جماعت ترقی اور انصاف پارٹی (اے کے) کے ہزاروں حامی لاتعلق رہے ہیں لیکن آج رجب طیب ایردوآن کے آبائی شہر ریز میں ان کے حامیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہاں تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے۔سی این این ترک ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ بحر قلزم کے کنارے واقع اس شہر میں اے کے کے سیکڑوں حامیوں نے حکومت مخالف احتجاج کرنے والے پچیس نوجوانوں کے ایک گروپ پر دھاوا بول دیا۔