.

القاعدہ رہ نما ایمن الظواہری کی مسلمانوں سے شام میں جہاد کی اپیل

اہل سنت اسد رجیم کے خلاف اپنا جان ،مال اور مہارتیں وقف کردیں:آڈیو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے لیڈر ڈاکٹر ایمن الظواہری نے سنی مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ شام میں صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوں اور بعداز اسد شام میں امریکا نواز حکومت کے قیام کا راستہ روکیں۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری نے اپنے نئے آڈیو پیغام میں دنیا بھر میں رہنے والے سنیوں پر زوردیا ہے کہ وہ اسد رجیم کے خلاف جہاد کے لیے اپنی جانیں ،مال اور مہارتیں وقف کردیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے رہ نما نے شامی صدر کی حمایت میں لڑنے پر لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور ایران پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور اہل سنت پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر شام میں شیعیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کا راستہ روکنے کے لیے جہاد کریں۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا ،اس کے ایجنٹ اور اتحادی یہ چاہتے ہیں کہ آپ جرائم پیشہ بعث حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے اپنا ،اپنے بچوں اور خواتین کا خون بہائیں اور پھر وہ اپنی وفادار حکومت قائم کر لیں تاکہ اسرائیل کی سکیورٹی کا دفاع کیا جاسکے''۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے مطابق القاعدہ کے لیڈر کے پیغام پر مبنی یہ آڈیو بائیس منٹ کی ہے اور اس کو القاعدہ کے زیر استعمال ایک ویب سائٹ پر جمعرات 6 جون کو پوسٹ کیا گیا ہے۔قبل ازیں اپریل میں مصری نژاد ڈاکٹر ایمن الظواہری کا پیغام سامنے آیا تھا۔اس میں انھوں نے مسلمانوں پر زوردیا تھا کہ وہ ایک ایسی ریاست کی تشکیل کریں جہاں اسلام کے اصولوں کے مطابق حکمرانی قائم کی جائے۔

القاعدہ کے لیڈر کے اس پیغام سے ایک ہفتہ قبل ہی معروف سنی عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے شام میں جہاد کی ضرورت پر زوردیا تھا اور شیعہ حزب اللہ کی شام میں باغیوں کے خلاف لڑائی کے لیے جنگجو بھیجنے کی مذمت کی تھی۔