.

بلدیاتی انتخابات کی مہم کی سربراہی امام خمینی کی نواسی کرینگی

31 اصلاحی جماعتوں کا زھراء اشراقی کے نام پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 31 اصلاح پسند جماعتوں، جن میں سے اکثر پابندی کی زد میں ہیں، نے تہران میں بلدیاتی انتخابات کی مہم کے لیے سربراہی امام خمینی کی نواسی زھراء اشراقی کے سپرد کردی ہے۔ یہ انتخابات اگلے جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے ساتھ ہی ہو رہے ہیں۔

اصلاح پسند تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امام خمینی کی بیٹی سیدہ صدیقہ مصطفی کی بیٹی اور آیۃ اللہ شہاب الدین اشراقی کی اہلیہ، جو اصلاح پسند الائنس کی یوتھ کمیٹی کی سربراہ بھی ہیں، آئندہ بلدیاتی انتخابات کی مہم کی سربراہی کرینگی۔ ان انتخابات میں بہت سے معروف اصلاح پسندوں کی شرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے جن میں اصلاحی کونسل کے سربراہ ھاشمی رفسنجانی کے بیٹے محسن ھاشمی بھی شامل ہیں۔

اصلاح پسند تنظیمیں 2009ء کے صدارتی انتخابات اور 2008ء کے پارلیمانی انتخابات میں عدم شرکت کے بعد اس مرتبہ بلدیہ انتخابات میں بڑے اہتمام کے ساتھ شرکت کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسندوں کے بڑے رہنماؤں کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی جن میں سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے بھائی محمد رضا خاتمی کی اہلیہ زھراء اشراقی بھی شامل تھیں۔

زھراء اشراقی کے بہ قول صدارتی انتخابات کے حوالے سے اصلاح پسندوں کو سابق صدر محمد خاتمی کی جانب سے کسی رہنما کی حمایت کا انتظار ہے۔ ان امیدواروں میں انکے سابق ڈپٹی محمد رضا عارف اور ان کے دور کے قومی سکیورٹی کے سیکرٹری حجۃ الاسلام حسن روحانی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جمعہ کی شام صدارتی امیدواروں کے مابین ٹی وی چینل پر مناظروں کا تیسرے دور ہوا، جس میں آٹھ امیدواروں نے بحث میں شرکت کی، یہ وہ امیدوار تھے جنہیں گارڈین کونسل نے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ مناظرے کے شرکاء نے معیشت اور نیوکلئیر معاملات پر مباحثہ کیا۔

چھ امیدواروں کو تعلق قدامت پرست کیمپ سے ہے، جن میں سابق وزیر خارجہ اکبر ولایتی، تہران بلدیہ کے سربراہ محمد باقر قالیباف، جوہری ہتھیاروں کے معاملے کے اہم مذاکرات کار سعید جلیلی، پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی، سابق پارلیمانی اسپیکر غلام حداد عادل، سابق وزیر پٹرولیم و مواصلات محمد غرضی شامل ہیں۔ ساتویں صدارتی امیدوار جوہری معاملات کے اہم مذاکرات کار روحانی جبکہ آٹھویں اصلاح پسند محمد رضا عارف ہیں۔

قبل ازیں گارڈین کونسل نے سابق صدر اکبر ھاشمی اور مصلحت کونسل کے چیرمین اسفند یار رحیم مشائی، جو محمود احمدی نژاد کے برادر نسبتی اور ان کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں، کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔