.

لاس اينجلس: مسلح حملہ آور کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک

پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی مارا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امريکی رياست کيليفورنيا کے شہر لاس اينجلس ميں ايک مسلح حملہ آور نے فائرنگ کر کے کم از کم چھ افراد کو ہلاک کر ديا۔ بعد ازاں پوليس کی جوابی کارروائی ميں حملہ آور بھی مارا گيا۔

تفصیلات کے مطابق اندھا دھند فائرنگ سے حملہ آور نے جمعہ کے روز شہر کے ايک علاقے ميں ايک گاڑی پر قبضہ کر کے اس کے مالک کو ہلاک کيا اور پھر اس نے ايک مسافر بس پر بھی فائرنگ کی۔ بعد ازاں حملہ آور نے اپنے ہدف لاس اينجلس کے سينٹا مونيکا کالج کا رخ کيا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ممکنہ طور پر ايک گھر کو بھی نذز آتش کيا، جس کے ملبے سے دو لاشيں برآمد ہوئی ہيں۔

مقامی پوليس کے مطابق حملہ آور کی عمر پچيس سے تيس برس کے درميان تھی اور تاحال اس کی شناخت نہيں ہو پائی ہے۔ عينی شاہدين کے مطابق اس حملہ آور نے سر سے لے کر پيروں تک سياہ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس کے پاس ايک بندوق تھی۔

فائرنگ کے اس واقعے نے سينٹا مونيکا کالج ميں کھلبلی مچا دی، جہاں حادثے کے وقت ہزاروں طلباء پڑھائی ميں مصروف تھے۔

سينٹا مونيکا کی پوليس چيف جيکلين سيبروکس نے حملہ آور سميت سات افراد کی ہلاکت کی تصديق کر دی ہے۔ ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ اس واقعے ميں دو سے تين افراد زخمی بھی ہوئے۔ سيبروکس نے واقعے کی تفصيلات بتاتے ہوئے مزيد بتايا کہ يہ امکان موجود ہے کہ نذر آتش کيے جانے والے مکان ميں ہلاک ہونے والوں کا حملہ آور سے کوئی تعلق ہو البتہ بقايا لوگ اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنے اور بظاہر ان کا حملہ آور سے کوئی تعلق نہيں تھا۔ سينٹا مونيکا کی پوليس چيف کے بقول ايک شخص کو زيرحراست بھی ليا گيا ہے اور امکاناﹰ اس شخص کا حملہ آور سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔

لاس اينجلس ميں جس جگہ يہ واقعہ پيش آيا، اس سے چند ہی ميل دور صدر باراک اوباما اسی وقت ايک تقريب ميں شريک تھے۔ تاہم سيکرٹ سروس کے ترجمان ايڈون ايم ڈونوون کے بہ قول اس واقعے کا صدر کے شہر ميں موجود ہونے سے کوئی تعلق نہيں ہے۔

واضح رہے کہ صدر باراک اوباما ملک ميں گن کنٹرول کے حوالے سے پائے جانے والے قوانين ميں ترميم کے خواہاں ہيں تاہم رواں سال اپريل ميں امريکی سينيٹ نے ان کے ايسے ارادوں پر پانی پھير ديا تھا۔