.

حکومت مخالف مظاہرین کو آیندہ بلدیاتی انتخابات میں سبق سکھا دیں:ایردوآن

استنبول،انقرہ اور دوسرے شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ،بیسیوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنی جماعت کے کارکنوں سے کہا ہے کہ ''آیندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں صرف سات ماہ رہ گئے ہیں،میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ جمہوری طریقے اور بیلٹ باکس کے ذریعے انھیں (حکومت مخالف مظاہرین کو) کو سبق سکھا دیں''۔

وہ اتوار کو جنوبی شہر عدنہ میں آمد کے موقع پر اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے کارکنوں سے خطاب کررہے تھے۔

ترک وزیراعظم ملک کے ایک حصے میں اپنے حامیوں کو حکومت مخالفین کو سبق سکھانے کی بات کررہے تھے تو دوسری جانب استنبول میں ان کی حکومت کے خلاف مسلسل دسویں روز مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا اور وہاں ہزاروں افراد حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

استنبول کے علاقے جیزی پارک میں مظاہرین نے ٹائر جلائے اور پولیس کی جانب آتش گیر مواد پھینکا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

دارالحکومت انقرہ میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔مقامی میڈیا کے ذرائع کے مطابق مظاہرے میں کم سے کم دس ہزار افراد شریک تھے اور پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے ان پر پانی پھینکا اور اشک آور گیس کے گولے فائر کیے جس سے بیسیوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔انقرہ ،مغربی شہر ازمیر اور جنوبی شہر عدنہ میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

استبول میں ایک پارک اور خلافت عثمانیہ دور کی فوجی بیرکوں کی تعمیر کے متنازعہ منصوبے کے خلاف ترکی کے مختلف شہروں میں گذشتہ جمعہ سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاجی مظاہرین حکومت سے اس منصوبے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ان کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ان پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک تین افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔