.

عمر بشیر نے جنوبی سوڈان کی تیل پائپ لائنیں بند کرنے کا حکم دیدیا

'تیل کی آمدن، سوڈان کے باغیوں کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینگے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمر حسن البشر نے اپنے زیر نگیں علاقوں سے جنوبی سوڈان کے تیل کو گزرنے سے روک دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس تیل کو پائپ لائنوں کے ذریعے سوڈانی علاقوں سے گزارنے کی اجازت کو ابھی دو ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔

سرکاری ریڈیو ’’ام درمیان‘‘ کے مطابق سوڈانی صدر نے ہفتے کے روز وزیر پٹرول کو اتوار کے روز سے جنوبی سوڈان کے تیل کے ترسیل کو روکنے کا حکم جاری کردیا۔ اس فیصلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ سوڈانی خبر رساں ایجنسی (SUNA) نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر نے جنوبی سوڈان کے تیل کی پائپ لائن کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
سوڈانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوڈانی صدر کا کہنا ہے کہ خرطوم جنوبی سوڈان کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو سوڈان (شمالی سوڈان) کے خلاف باغیوں کی مدد میں استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

ادھر جنوبی سوڈان کے وزیر اطلاعات بارنابا ماریال بنیامین کا کہنا ہے کہ سوڈانیوں کو بہت سی داخلی مشکلات کا سامنا ہے، بہت سے لوگ جنوبی سوڈان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جولائی 2011 میں اپنی آزادی کے اعلان کے موقع پر جنوبی سوڈان کو سوڈانی تیل کے ذخائر کا پچھتر فیصد حصہ دیا گیا تھا، لیکن سوڈان کو اپنا تیل برآمد کرنے کے لیے بڑی پائپ لائن بچھانے کی ضرورت تھی۔

جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان کشیدہ حالات، بالخصوص تیل کی تقسیم پر اتفاق نہ ہونے، کے باعث ایک سال تک انتظار کیا گیا اور پھر اپریل میں جنوبی سوڈان کے تیل کو سوڈانی پائپوں کے ذریعے سے منتقل کرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم سات مئی کو خرطوم انتظامیہ نے اعلان کردیا کہ جنوبی سوڈان کے تیل کے سوڈان کی جانب بہاؤ کو سوڈان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

ستائیس مئی کو سوڈانی صدر عمر البشیر نے پائپ لائنز کے ذریعے سوڈانی سرزمین سے گزرنے والے تیل کی ترسیل کو بند کرنے کی دھمکی دے دی اور اور 08 جون کو تیل کے پائپ لائنوں کو بند کرنے کا حکم آ گیا۔