.

لیبیا:بن غازی میں پُرتشدد واقعات کے بعد مسلح افواج کا سربراہ برطرف

مسلح ملیشیا اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 27 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں مظاہرین اور ایک ملیشیا کے درمیان مسلح جھڑپوں کے بعد نیشنل کانگریس نے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل یوسف المنجوش کو برطرف کردیا ہے۔

بن غازی میں وزارت دفاع کی منظوری سے بروئے کار مسلح ملیشیا اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد ستائیس ہوگئی ہے۔مظاہرین شہر میں ''لیبیا شیلڈ بریگیڈ'' کی عمارت کے باہر مظاہرہ کررہے تھے اور وہ اس ملیشیا کو کالعدم قرار دے کر ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

بن غازی کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ ''مظاہرین کے ایک گروپ نے وہاں ملیشیاؤں کی موجودگی کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔وہ فوج کی تشکیل نو کے لیے ملیشیا گروپوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے''۔اس دوران مظاہرین نے ملیشیا کے ارکان کی جانب پتھراؤ شروع کردیا اور اس کے جواب میں ملیشیا کے ارکان نے مظاہرین پر فائرنگ کردی۔

بن غازی میں سکیورٹی آپریشنز روم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ''ابتدائی رپورٹس سے جھڑپوں میں اٹھارہ افراد کے زخمی ہونے اور دو کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی۔اب تک فوجی کارروائی کا کوئِی فیصلہ نہیں ہوا اور ہم قبائلی زعماء کی جانب سے تنازعے کے حل کے لیے مداخلت کے منتظر ہیں''۔فوجی ترجمان کے اس بیان کے بعد پچیس افراد مارے گئے ہیں۔

مقامی کارکنان کا کہنا ہے کہ شہری ملیشیاؤں کی موجودگی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا وجود لیبیا کے استحکام کے خلاف ہے اور ایک باقاعدہ فوج اور پولیس کے ذریعے ہی ملک کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔

لیبیا کی موجودہ منتخب حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلح گروپوں پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے لیکن سابق صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے جنگجو گروپ اب اپنے ہتھیار پھینکنے کو تیار نہیں اور وہ اس کے بدلے میں حکومت سے بھاری مراعات کا مطالبہ کررہے ہیں۔یہ مسلح گروپ آئے دن حکومت کے لیے سردردی کا باعث بن رہے ہیں اور انھوں نے دوسرے بڑے شہر بن غازی کے علاوہ اپنے اپنے زیر نگین علاقوں میں الگ سے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔