.

بشار الاسد اصلاحات نافذ کرکے جنگ سے بچ سکتے تھے: پوتین

روس شامی صدر کے وکیل کے طور پر کام نہیں کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد اپنے عوام کے مطالبے کے مطابق ملک میں اصلاحات کا نفاذ کرکے تنازعے سے بچ سکتے تھے۔

روسی صدر نے یہ بات ماسکو میں انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل "رشیا ٹوڈے" کے دفتر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''شام میں سنجیدہ تبدیلیاں لائی جانی چاہیے تھیں اور قیادت کو بروقت اس معاملے کو محسوس کرنا چاہیے تھا اور تبدیلیوں کے لیے کوشش کرنی چاہیے تھی،اگر ایسا ہوجاتا تو پھر شام میں اس وقت جو کچھ رونما ہورہا ہے تو یہ نہ ہوتا''۔

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شام کے معاملات میں غیرملکی مداخلت کی صورت میں اس ملک کے قدرتی وسائل کی خاطر بڑی جنگ چھڑ جائے گی جس سے اس خطے میں سرگرم دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔ تاہم ولادی میر پوتین نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ شام کو پرامن طریقے سے حل کیے جانے کا امکان اب بھی موجود ہے۔

انھوں نے شام کے بیرون سے تعلق رکھنے والے بعض لوگوں پر الزام عاید کیا کہ ''وہ خطے کو ایک ہی طرز پر تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ جمہوریت کا آوازہ بلند کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے امن وامان قائم ہوجائے گا لیکن یہ ہرمعاملے میں نہیں ہوسکتا''۔انھوں نے واضح کیا کہ روس بشارالاسد کے وکیل کے طور پر کام نہیں کررہا ہے۔

انھوں نے توقع ظاہر کی کہ روس اور امریکا کی مجوزہ عالمی امن کانفرنس سے شامی بحران کے حل کے طریقے وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔امریکا اور روس کی یہ مجوزہ کانفرنس پندرہ اور سولہ جون کو جنیوا میں منعقد ہورہی ہے۔توقع ہے کہ اس میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندے شرکت کریں گے۔

صدر پوتین نے رشیا ٹوڈے سے انٹرویو میں دوسرے عالمی موضوعات اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو کم شدت کے جوہری بم کے استعمال کے منصوبے سے گریز کرنا چاہیے۔

"اگر کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو ممکن قرار دے دیا جائے تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور ویسے بھی جوہری بم کی شدت کی مناسب حد کون متعین کرے گا؟" پوتین کا کہنا تھا۔ان کے بہ قول دور حاضرہ میں سلامتی کو بہت زیادہ چیلجز درپیش ہیں اور بین الاقوامی مسائل کثیر ہیں لیکن ان کو حل کرنے کا واحد راستہ دنیا کے ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جانا ہے۔

روس،امریکا تعلقات پر بات کرتے ہوئے ولادی میر پوتین نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی اختلافات کی تعداد بہت کم ہے لیکن کچھ موضوعات پر اہم اختلافات برقرار ہیں جن کی بڑی وجہ دنیا کے حوالے سے روس اور امریکا کے نقطہ نگاہ میں فرق ہے۔امریکا انفرادیت کو ترجیح دیتا ہے جبکہ روس اجتماعیت کو ترجیح دینے کا حامی ہے۔