.

افغان عدالت عظمیٰ کے باہر خودکش بم دھماکا،17 افراد ہلاک

طالبان نے عدالتی عملے کی بسوں پر بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عدالت عظمیٰ کے عملے کو لے جانے والی بسوں کے نزدیک خودکش بم حملے کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین اور افغان حکام کی اطلاع کے مطابق سپریم کورٹ کا عملہ چھٹی کے بعد منگل کو سہ پہر قریباً چار بجے منی بسوں میں سوار ہو کر گھروں کو واپس جانے کی تیاری کررہا تھا کہ اس دوران ان پر ایک خودکش بمبار نے حملہ کردیا۔

افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نجیب نیک زاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سپریم کورٹ کی عمارت کے نزدیک پچھلے پہر زوردار دھماکا ہوا ہے لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ خودکش حملہ تھا یا نہیں''۔

نائب ترجمان کے بہ قول بم ایک کار میں نصب تھا اور جونہی سپریم کورٹ کے احاطے سے منی بسییں روانہ ہوئیں،اس کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔مرنے والوں اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بم دھماکے میں زخمی پونے والے ایک شہری میراجان نے بتایا ہے کہ ''ہم لوگ ایک کار میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس دوران ہمارے پیچھے ایک کار میں اچانک دھماکا ہو گیا۔اس کے بعد کیا ہوا،اس کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں''۔

افغان طالبان نے عدالت عظمیٰ کے عملے کی بسوں پر بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بم حملے میں جارح حملہ آوروں کو جواز مہیا کرنے والے ان ججوں اور عدالتی عملے کو سزا دی گئی ہے جو طالبان قیدیوں کو سزائیں سنارہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''آج کا حملہ ان ججوں کے لیے انتباہ ہے جنھوں نے ظالمانہ فیصلے دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ہمارے ہم وطنوں کو دہشت زدہ کررہے ہیں۔اس صورت حال میں مجاہدین ان سے کوئی رورعایت نہیں برتیں گے اور انھیں موت سے ہمکنار کرتے رہیں گے''۔

افغان عدالت عظمیٰ کی عمارت کابل میں قلعہ نما امریکی سفارت خانے سے صرف پانچ سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔افغان دارالحکومت میں گذشتہ دو روز میں یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔سوموار کو سات طالبان نے شہر کے مرکزی ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔ان میں خودکش بمبار بھی شامل تھے۔انھوں نے چار گھنٹے تک ہوائی اڈے کا محاصرہ کیے رکھا تھا اور بعد میں افغان سکیورٹی فورسز نے انھیں ہلاک کردیا تھا۔