.

بوشہر: روسی ساختہ ایرانی جوہری پلانٹ میں خرابی: سفیر کا انکشاف

ماہرین مشکل پر قابو پانے کے لیے مصروف، وجہ نہیں جان سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں ایرانی سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک میں روس کا تعمیر کردہ بوشہر ایٹمی پلانٹ میں فنی خلل پیدا ہو گئے ہیں. سفیر کے بہ قول اس پلانٹ کی تنصیب میں بھی کچھ تکنیکی سقم موجود ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ روسی ماہرین خرابی دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ماسکو میں ایرانی سفیر محمود رضا سجادی نے بتایا کہ اس اسٹیشن میں ہونے والے خرابی اور دو ماہ قبل آنے والے زلزلے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپیکٹرز نے ایران کا دورہ کیا تو یہ پلانٹ بند پڑا تھا۔

محمود رضا سجادی کا یہ بیان آئی اے ای اے کے ایک اجلاس میں خلیجی ریاستوں کی جانب سے اس استفسار کے بعد سامنے آیا جسمیں زلزے کے ایٹمی پلانٹ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ خلیجی ساحل کے قریب واقع اس پلانٹ میں خرابی کی وجہ سے قریبی ممالک کی تشویش میں بھی اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ پلانٹ سے پیدا ہونے والی تابکاری کے اثرات قریب خلیج کے ذریعے قطری دارالحکومت دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے آئل ایکسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

قبل ازیں اس سال کے آغاز پر جاری ہونے والی ’’آئی اے ای اے‘‘ کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ فروری کے وسط میں ایران کا دورہ کرنے والی بین الاقوامی ٹیم کو بتایا تھا کہ یہ جوہری پلانٹ بند ہے، تاہم حکام نے اس کی بندش کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

رضا سجادی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ’ بوشہر کے جوہری اسٹیشن میں صرف ایک مسئلہ اس کی جنریٹر میں ہے،‘‘ خرابی کب پیدا ہوئی؟ انہوں نے یہ نہیں بتایا اور تاہم ان کا اتنا ضرور کہنا تھا کہ’’ہم روسی ماہرین کے ساتھ مل کر اس خرابی کو دور کر رہے ہیں‘‘

ان کا کہنا تھا ’’ایران میں آنے والے زلزلے اور پلانٹ میں پائی جانے والی موجودہ خرابی میں کوئی باہمی تعلق نہیں. یہ جوہری پلانٹ زلزلے کے شدید ترین جھٹکے بھی برداشت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے‘‘ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا اس وقت یہ اسٹیشن کام کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس موجودہ صورتحال کی معلومات نہیں۔