.

ترک بلوا پولیس کا استنبول کے تقسیم چوک پر دھاوا

رجب طیب ایردوآن مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات پر راضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ثقافتی دارلحکومت استنبول کے تقسیم چوک میں خیمہ زن احتجاجی مظاہرین کو منشتر کرنے کے لئے بلوا پولیس نے منگل کو علی الصباح پانی کی توپوں اور اشک آور گیس کے شیلز کی شدید فائرنگ کی۔

پولیس نے تقسیم چوک کے سامنے عمارت پر لٹکائے گئے احتجاجی بینرز اتار دیئے۔ خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے مقامی گورنر کے حوالے سے بتایا کہ پولیس تقسیم اسکوائر سے متصل 'گیزی پارک' میں احتجاج ختم کرانے کے لئے کوئی ایسی کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔

استنبول کے گورنر حسین ایونی متلو نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "ہم اتاترک ثقافی مرکز اور اس کے باہر اتاترک کے مجسمے پر بنائے گئے نشانات، آویزاں پوسٹر ہٹانا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ہم کچھ نہیں چاہتے۔ 'گیزی پارک اور تقسیم کو ہم نہیں چھیڑنا چاہتے۔'

العربیہ پر دکھائے جانے والے تقسیم اسکوائر کے براہ راست مناظر میں مظاہرین کو پولیس کے حصار اور اردگرد علاقے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بلوا پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے منگل کو علی الصباح تقسیم اسکوائر کے گرد جمع ہونا شروع کر دیا تھا۔ راٸیٹرز کے مطابق قریب واقع گیزی پارک میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہوا۔

ترک ذرائع ابلاغ کے حوالے سے رائیٹرز نے بتایا کہ پولیس مظاہرین کی جانب سے تقسیم اسکوائر کے گرد کھڑی رکاوٹیں ہٹانے کی تیاری کر رہی تھی۔ تقسیم چوک پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد تصادم کا مرکز بنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی پیر کے روز وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی جانب سے مظاہرین کے رہنماٶں سے ملاقات کرنے پر رضامندی کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

وزیر اعظم کی جانب سے مظاہرین کے لیڈران کو امن کے نشان کے طور پر زیتون کی شاخ کی پیشکش کے عمل سے حکومت مخالفین اور مظاہرین دونوں کو حیرت ہوئی ہے۔ استنبول اور دارالحکومت انقرہ کی سڑکوں پر حکومت مخالف مظاہروں کے شرکاء کو ایردوآن نے اتوار کے روز دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ مظاہرہ کرنے والوں کو ان حکومت مخالف اقدامات کی قیمت چکانا پڑے گی۔ ایک دہائی سے قائم ایردوآن حکومت کو ان دنوں سب سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ ایردوآن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی میں غیر قانونی مظاہروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم بلند آرِنچ نے مظاہرین کے نمائندہ لیڈروں سے وزیر اعظم کی ممکنہ ملاقات کے حوالے میڈیا کو بریف کیا۔ امکاناً یہ ملاقات بدھ کے روز ہو سکتی ہے۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق ان لیڈروں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے گا اور ترک وزیر اعظم گفتگو کر کے ان لیڈروں کے خیالات کو جان سکیں گے۔ ایردوآن نے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کا فیصلہ پیر کے روز ہونے والی کابینہ کی طویل میٹنگ کے دوران کیا۔
اکتیس مئی سے ترکی میں جاری مظاہروں کے دوران پولیس کارروائیوں اور مظاہرین کے پتھراؤ کے دوران کم از کم دو مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق میڈیکل ذرائع نے کر دی ہے۔ ترک وزیر اعظم کے مطابق اتوار تک مظاہروں کے دوران 600 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے تھے۔ ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والوں کے مطابق زخمیوں کی تعداد 5 ہزار کے قریب ہے۔ مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کی عالمی سطح پر مذمت بھی کی جا چکی ہے۔