.

اردنی پارلیمان میں برطانیہ سے مجرموں کی بے دخلی کا معاہدہ منظور

برطانیہ فلسطینی نژاد ابو قتادہ سمیت اردن کو مطلوب افراد حوالے کردے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی پارلیمان نے برطانیہ کے ساتھ مشتبہ افراد کی بے دخلی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر خلیل عطیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''منظور کردہ معاہدے کے تحت اب برطانیہ اردن کو مطلوب راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ اور دوسرے مشتبہ افراد کو بے دخل کرسکے گا''۔معاہدے میں ابو قتادہ اور دوسرے مطلوب افراد کا خاص طور پر نام تو نہیں لیا گیا ہے لیکن وہ سب اس میں شامل ہوں گے۔

خلیل عطیہ نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کے تحت برطانیہ شاہ اردن کے ایک بھگوڑے انکل ولید کردی کو بھی عمان کے حوالے کردے گا۔ان صاحب کو اردن کی ایک عدالت نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گذشتہ ہفتے ساڑھے سینتیس سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

اب شاہ عبداللہ دوم کی توثیق کے بعد یہ معاہدہ قانون بن جائے گا۔واضح رہے کہ ابو قتادہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران برطانیہ بدری سے بچنے کے لیے قانونی جنگ لڑتے رہے ہیں۔اس دوران انھیں متعدد مرتبہ جیل کی ہوا کھانا پڑی لیکن اس کے باوجود انھیں بالآخر برطانیہ سے بے دخلی کا سامنا ہے۔

اردن میں ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات درج ہیں۔انھوں نے دس مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر اردنی پارلیمان تشدد سے حاصل کردہ شواہد کو ان کے خلاف استعمال نہ کرنے کے معاہدے کی توثیق کردیتی ہے تو وہ رضا کارانہ طور پر اپنے آبائی وطن جانے کو تیار ہوں گے۔

برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے 24 اپریل کوابو قتادہ کی ملک بدری سے متعلق اردن کے ساتھ اس نئے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت عمر محمد عثمان المعروف ابو قتادہ کو برطانیہ سے بے دخل کر کے اردن کے حوالے کردیا جائے گا۔تھریسامے نے برطانوی دارالعوام کو بتایا تھا کہ معاہدے میں شفاف ٹرائل کی ضمانت دی گئی ہے اور ابو قتادہ کے خلاف اردن میں تشدد سے حاصل کردہ شواہد کو عدالتوں میں استعمال نہ کرنے کی بھی یقین دہانی حاصل کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ باون سالہ ابو قتادہ 1993ء سے برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔انھیں چند ماہ قبل برطانیہ کے شہر وورسٹرشائر کی لانگ لارٹن جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ضمانت کی شرائط کے تحت رہائی کے عرصہ میں ان پر سولہ گھنٹے کے کرفیو کی پابندی عاید کی گئی تھی اور وہ صبح آٹھ بجے سے سہ پہرچار بجے کے دوران ہی گھر سے باہر نکل سکتے تھے۔

برطانیہ کے خصوصی امیگریشن اپیلز کمیشن نے قبل ازیں اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ وہ اس بات پر مطمئن نہیں کہ اردن ابو قتادہ کے منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دے گا۔کمیشن نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے گذشتہ سال جنوری کے فیصلے کی توثیق کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اردن میں تشدد عام ہے اور اس کا ثبوت اس کی عدالتوں میں پیش کیے گئے شواہد سے بھی ملا ہے۔کمیشن کے ججوں نے قرار دیا تھا کہ ابوقتادہ کی ان کے ملک میں واپسی ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

ابوقتادہ فلسطینی نژاد اردنی عالم دین ہیں۔اردن میں 1999ء اور 2000ء میں ان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت ان کی عدم موجودگی میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اردن کی ایک عدالت نے ابوقتادہ کو 1998ء میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قراردیا تھا۔اب ان کی اردن واپسی پران کے خلاف یہ مقدمہ دوبارہ چلایا جائے گا۔

برطانوی حکام نے ابو قتادہ کو پہلی مرتبہ 2001ء میں اردن کے حوالے کرنے کی کوشش کی تھی اور پھر انھیں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 2002ء میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔2005ء میں اس قانون کے خاتمے کے بعد انھیں رہا کردیا گیا تھا۔اس کے بعد انھیں نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انھیں برطانیہ بدری کے خلاف ان کی اپیل کا فیصلہ ہونے تک دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

برطانیہ انھیں اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قراردیتا چلا آ رہا ہے اور انھیں ایک ہسپانوی جج نے ماضی میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا ایک سنئیر مشیر قراردیا تھا جبکہ برطانوی حکومت کے وکلاء نے ماضی میں ان کا تعلق القاعدہ کے ایک جنگجو زکریا موسوی سے بھی جوڑنے کی کوشش کی تھی۔