.

القدس کی آزادی کا راستہ 'القصیر' سے ہو کر نہیں گرزتا: جامعہ الازہر

حزب اللہ ملیشیا کی شامی تنازعے میں مداخلت پر شیخ الازہر کی سخت تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی معروف درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ شام میں مداخلت وہاں جاری خونریزی میں حصہ دار بننے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ شام لایعنی فرقہ وارانہ تنازعات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اہل تشیع کو بلا وجہ اس جنگ میں گھسیٹ لایا گیا ہے اور اب وہ مذہبی فرقہ واریت کے جال میں پھنس چکے ہیں۔

شیخ الازہر کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ نے حالیہ شامی تنازعے میں اپنا سیاسی اور عسکری وزن حکومتی پلڑے میں ڈال کر سب کی توجہ اسرائیل کی جانب کر دی ہے جبکہ اس سے پہلے حزب اللہ ہی خود کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا سرخیل سمجھتی تھی۔

انہوں نے حزب اللہ کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ القدس کی آزادی کا راستہ القصیر یا حمص سے ہو کر نہیں گزرتا۔ بہ قول ڈاکٹر احمد الطیب، خطے میں جو پیش رفت ہو رہی ہے وہ سازش کی ایک قسم دکھائی دیتی ہے۔