.

شورائے نگہبان نے علی اکبررفسنجانی کی نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا

سابق صدر کا اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار پر شوریٰ پراثرانداز ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی شورائے نگہبان نے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو آیندہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں نااہل قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کردی ہے۔

علی اکبر رفسنجانی نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار کی شورائے نگہبان کے اجلاس میں شرکت کے بعد نااہل قرار دیا گیا تھا اور ان صاحب نے اس اجلاس میں شرکت کے لیے ہر طرح کے قانون اور ضابطے کو تیاگ دیا تھا۔

ان کے بہ قول ''اجلاس مِں شریک اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ رفسنجانی اگر صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو وہ فیصلہ کن واضح فتح حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے بعد اس عہدے دار نے شورائے نگہبان کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ مجھے خرابیٔ صحت کی بنا پر نااہل قرار دے دیا جائے''۔

دوسری جانب شورائے نگہبان کے ترجمان عباس علی کدخدائی کا کہنا ہے کہ ''قانون کے تحت شورائے نگہان دوسرے اداروں کے عہدے داروں کو ان کی رائے کے لیے طلب کرسکتی ہے۔یہ ایک معمول کی کارروائی تھی''۔

انھوں نے کہا کہ ''بعض امیدواروں کی جانچ کے وقت ایسا طریق کار اختیار کیا جاتا ہے اور یہ کوئی نیا عمل نہیں ہے۔کسی امیدوارکی اہلیت کا فیصلہ کرنا شورائے نگہبان کے ارکان کا کام ہے''۔واضح رہے کہ شورائے نگہبان کے تمام ارکان کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای براہ راست یا بالواسط مقرر کرتے ہیں۔

ایران کی شورائے نگہبان نے گذشتہ ماہ آٹھ امیدواروں کو 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا تھا۔ان میں سے دو امیدوار غلام علی حداد عادل اور محمد رضا عارف دستبردار ہوگئے ہیں اور اب چھے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

اس وقت سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی ،ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی، تہران کے سابق میئر محمد باقر قلی باف ،پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضایی ،سابق وزیر مواصلات محمد خرازی اور اعتدال پسند عالم دین حسن روحانی میدان میں ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اب تک کسی امیدوار کا بھی پلڑا بھاری نظر نہیں آتا ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہے کہ ان چھے امیدواروں میں سے کون صدارتی انتخاب جیتے گا۔تاہم علی اکبر ولایتی ،سعید جلیلی اور حسن روحانی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔علی اکبر ولایتی کو سپریم لیڈر اور قدامت پسندوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ سعید جلیلی اور حسن روحانی کو اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔