.

قذافی کے آخری وزیراعظم نے سیاست دانوں پر اربوں ڈالرز اڑا دیے

بغدادی المحمودی کے خلاف بدعنوانیوں کے مقدمے کی سماعت 7 اگست تک ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی ایک عدالت نے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے دور حکومت میں آخری وزیر اعظم بغدادی علی المحمودی کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں اور بدعنوانیوں کے الزامات میں قائم مقدمے کی سماعت اگست کے آخر تک ملتوی کر دی ہے۔

طرابلس کی عدالت میں بدھ کو سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران کہا گیا ہے کہ انھوں نے سابق مطلق العنان صدر کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران سیاست دانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالرز اڑا دیے تھے۔

بغدادی المحمودی کو قیدیوں کے نیلے لباس میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ان کے ساتھ سرکاری خزانے کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں شریک ملزمان مبروک زحمول اور عامر صلاح طرفاس کو پیش کیا گیا۔یہ دونوں سابق صدر کے بیٹے سیف الاسلام کی ایک سرمایہ کارکمپنی کے ایگزیکٹوز تھے۔

ان تینوں پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے ڈیڑھ کروڑ یورو کی رقم لیبیا سے پڑوسی ملک تیونس میں نجی اکاؤنٹس میں منتقل کی تھی اور اس کا مقصد 2011ء میں سابق صدر کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران ان کی وفادار فورسز کے لیے لاجسٹیکل سپورٹ مہیا کرنا تھا۔مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ لیبیا سے دوسرے ممالک میں بھی رقوم منتقل کی گئی تھیں۔تاہم اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

پراسیکیوٹر الصدیق السور نے مقدمے کی سماعت کے بعد نیوزکانفرنس میں کہا کہ بغدادی المحمودی نے سابق صدر کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران چار ارب دینار (تین ارب دس کروڑ ڈالرز) اندرون اور بیرون ملک سیاست دانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تقسیم کیے تھے۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم سے ریاست کی سکیورٹی پر حملہ آور ہونے ،جرائم پیشہ افراد کا ساتھ دینے اور عوامی بغاوت کے دوران خواتین کی عصمت دری کی شہ دینے کے الزامات میں بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

وکلائے صفائی کی درخواست پر عدالت نے مقدمے کی سماعت سات اگست تک ملتوی کردی ہے۔انھوں نے استدعا کی تھی کہ وہ تیونس میں تحقیقات سے متعلق دستاویزات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں،اس لیے انھیں مہلت دی جائے۔

عدالت میں تیونس کی انصاف اور انسانی حقوق کی وزارتوں کا ایک وفد بھی موجود تھا جو اس بات کا جائزہ لینے کے لیے آیا تھا کہ آیا بغدادی المحمودی کا منصفانہ ٹرائل کیا جارہا ہے یا نہیں۔انسانی حقوق کی وزارت کے ترجمان شکیب دریوش نے کہا کہ ''ٹرائل عوام اور میڈیا کے لیے اوپن تھا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ منصفانہ ٹرائل کی کوشش کی جارہی ہے''۔

یادرہے کہ ستر سالہ بغدادی المحمودی پانچ مارچ 2006ء سے اگست 2011ء تک لیبیا کی جنرل پیپلز کمیٹی کے سیکرٹری رہے تھے۔قذافی دور میں یہ عہدہ ملک کے وزیراعظم کے مساوی ہوتا تھا۔ وہ اگست 2011ء میں کرنل معمرقذافی کی اقتدار سے رخصتی،دارالحکومت طرابلس اور ان کے اقتدار کی علامت باب العزیزیہ کمپاٶنڈ پر باغیوں کے قبضے تک اس عہدے پر فائز رہے تھے۔

وہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد 21ستمبر2011ء کو تیونس فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے اور تیونس نے 24 جون 2012ء کو انھیں ان کے ملک کے حوالے کردیا تھا۔لیبیا کے سابق وزیر اعظم کو تیونس کے الجزائر کی سرحد کے ساتھ واقع جنوب مغربی علاقے میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں اس الزام میں چھے ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بغدادی المحمودی اور مقتول کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور وہ اس خدشے کا اظہار کرچکی ہیں کہ سابق باغی جنگجوؤں اور موجودہ سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں کرنل قذافی کے وحشیانہ انداز میں قتل اور ان کی لاش کی بے حرمتی کے بعد انھیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ لیبیا کی عدالتوں میں ان کے بیٹے، سابق وزیر اعظم اور دوسرے سابق عہدے داروں کے خلاف انصاف کے عالمی معیار کے مطابق مقدمات چلائے جائیں گے۔