.

12 دن بعد کے ہنگاموں کے بعد تقسیم چوک میں 'ہولناک سناٹا'

ایردوآن کی مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے ترکی کے شہر استنبول کے تقسیم اسکوائر کو مظاہرین سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ بدھ کی صبح سے وہاں ایک 'مضطرب سکون' دیکھا جا رہا ہے۔

ترکی میں گزشتہ بارہ دنوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران منگل کے روز وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ عوامی مظاہروں کا یہ سلسلہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے بتایا ہے کہ تقسیم اسکوائر میں موجود ہزاروں مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور تیز دھار پانی استعمال کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے مابیں جھڑپیں جاری رہیں تاہم صبح سویرے تک مظاہرین کو تقسیم اسکوائر سے نکالا جا چکا تھا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق استنبول کے تقسیم اسکوائر پر سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ ہزاروں مظاہرین نے گیزی پارک میں پناہ حاصل کر لی ہے۔ یہ وہی پارک ہے، جہاں سے ان مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

گزشتہ روز استنبول کے علاوہ انقرہ میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ وہاں قائم امریکی سفارتخانے کے قریب جمع ہونے والے قریب پانچ ہزار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے۔ اس موقع پر سکیورٹی اہلکاروں کے پاس بلڈوزر بھی تھے تاکہ وہ مظاہرین کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو ہٹاتے جائیں۔

وزیر اعظم ایردوآن آج بدھ کو ان ہزاروں مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والے ہیں، جو گزشتہ ماہ کے آخر سے استنبول اور انقرہ میں حکومت مخالف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تنازعے کی وجہ

ترکی میں حکومت مخالف شورش اس وقت شروع ہوئی تھی جب استنبول کے غازی پارک میں سلطنتِ عثمانیہ دور کی فوجی بیرکس کی دوبارہ تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے پر مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

اس کے بعد ان مظاہروں کا دائرہ پھیل گیا اور مظاہرین اردوگان کی حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ مطلق العنان بنتی جا رہی ہے، اور ترکی جیسے سیکولر ملک میں اسلامی اقدار نافذ کرنا چاہتی ہے