.

اقوام متحدہ کا گولان کی پہاڑیوں پر تعینات امن فورس کے تحفظ پر زور

سلامتی کونسل فورس کی خود حفاظتی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کرے:مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شام اور اسرائیل کے درمیان متنازعہ علاقے گولان کی چوٹیوں پر تعینات عالمی امن فورس کو بہتر تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بین کی مون نے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اقوام متحدہ کی اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی مبصر فورس میں شامل آسٹریا کے فوجی واپس جارہے ہیں۔آسٹریا نے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران حملوں اور اغوا کی وارداتوں کے بعد اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔قبل ازیں کروشیا اور جاپان نے بھی علاقے میں تعینات اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔

بین کی مون نے بدھ کو ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ امن فورس کی خود حفاظتی صلاحیت میں اضافے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے اور مشن کی کارروائیوں پر بھی نظرثانی کی جائے''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی امن فورس کو اس وقت صرف ہلکے ہتھیار لے کر ہی گشت کرنے کی اجازت ہے۔سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر دفاع سے مراد مزید فوجی گاڑیوں کی فراہمی ہے اور امن مشن کی کارروائیوں میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ علاقے میں امن فورس کے گشت کو کم کردیا جائے گا۔

آسٹریا کے فوجیوں کا بدھ سے گولان کے علاقے سے انخلاء شروع ہوا ہے اور ستر فوجیوں پر مشتمل اس کا پہلا دستہ اسرائیل پہنچا ہے جہاں سے وہ واپس وطن روانہ ہوجائے گا۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اگلے روز آسٹروی فوجیوں کی جگہ شام اور اسرائیل کے درمیان متنازعہ علاقے گولان کی پہاڑیوں پر جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی امن فورس میں شمولیت کے لیے اپنے فوجی بھیجنے کی پیش کش کی تھی۔

اس وقت اسرائیل اور شام کے درمیان گولان کی چوٹیوں پر حد متارکہ جنگ (سیزفائر لائن )کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے تین سو اسّی فوجی تعینات ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق آسٹریا ،فلپائن ،بھارت ،مراکش اور مالدووا سے ہے۔اس علاقے میں 1974 ء سے اقوام متحدہ کی امن فورس تعینات ہے۔