.

صدارتی انتخاب سے قبل حکومت مخالفین ایرانیوں کی کڑی نگرانی اور پکڑ دھکڑ

حکومت مخالف متعدد سیاسی کارکنان اور صحافی گرفتار، تین اخبارات بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے جمعہ کو صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ سے قبل صحافیوں اور سیاسی کارکنان کی پکڑ دھکڑ جاری رکھی ہوئی ہے تاکہ بعد از انتخابات 2009ء جیسی صورت حال سے بچا جاسکے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں بلاجواز گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔مارچ کے بعد حکومت مخالف تین اخبارات کو بند کیا جاچکا ہے اور پانچ صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں ایران میں گرفتار کیے گئے افراد کے متعدد کیسوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں مکریان نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر انچیف خسرو کردپور بھی شامل ہیں۔ان کے بھائی جب ان کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے وزارت سراغرسانی میں گئے تو انھیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔اس کے بعد دونوں بھائیوں کو قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔

صوبہ فارس میں اصلاح پسند اتحاد کی مرکزی کونسل کی رکن جمیلہ کریمی کو اپریل میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ تب سے قید تنہائی میں ہیں۔ایمنسٹی کےمطابق ایرانی حکام نے متعدد سیاسی کارکنوں ،ٹریڈ یونینسٹوں اور طلبہ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

ایمنسٹی کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام کے ڈائریکٹر فلپ لوتھر کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے قبل شروع کی گئی جبروتشدد کی کارروائیوں کا مقصد ناقدین کو خاموش کرانا ہے۔

واضح رہے کہ جون 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد ابھی تک جیلوں میں بند ہیں۔ دو سابق صدارتی امیدوار میر حسین موسوی اور مہدی کروبی اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک اورعالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مہدی کروبی کے خاندان کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ گذشتہ بیس ماہ سے زیادہ عرصے سے اپنے اپارٹمنٹ میں نظربند ہیں اور انھیں صرف علاج کے لیے ہی باہر جانے کی اجازت ہے۔

ایرانی حکومت نے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پابندی عاید کردی تھی اور انٹرنیٹ پر مختلف قدغنیں عاید کی تھیں۔ایران کے سیاسی امور کے ایک ماہر حسن ہاشمین کا کہنا ہے کہ ''حالیہ گرفتاریوں کا مقصد حزب اختلاف کی آوازوں کو خاموش کرانا ہے کیونکہ یہ آوازیں انتخابات کے بعد زیادہ بلند ہم آہنگ ہوسکتی ہیں''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''گذشتہ صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہوئے تشدد کے واقعات کے اعادے کا تو فی الحال امکان نظر نہیں آتا ہے کیونکہ حکومت مخالفین کی آوازوں کو دبایا جارہا ہے لیکن اگر اس مرتبہ مظاہرے شروع ہوگئے تو پھر حکومت کے لیے بچنا مشکل ہوگا''۔

ایرانی حزب اختلاف کی سبز تحریک نے بدھ کو ایک خط جاری کیا ہے جو اس کے بہ قول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر سے افشاء ہوا ہے۔اس میں سپریم لیڈر نے حکام پر زوردیا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے دوران کسی بھی قسم کی گڑبڑ اور ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔اس خط پر ''خفیہ'' کی مہر لگی ہوئی تھی اور اس میں مسلح افواج کے علاوہ سکیورٹی اداروں کے سربراہوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔