.

ایران کے صدارتی انتخاب سے کچھ نہیں بدلے گا: نیتن یاہو

"ایٹمی ہتھیار بنا کر تہران 6 ملین اسرائیلی یہودیوں کو ملیامیٹ کرنا چاہتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ایران میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے تہران کی پالیسیوں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئے گی۔

پولینڈ کے دارلحکومت وارسا میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ "بدقسمتی سے ایران میں ہونے والے نام نہاد انتخابات سے کسی واضح تبدیلی کے امکانات نہیں۔"اس موقع پر پولیش وزیر اعظم وزیراعظم ڈونلڈ تسک بھی موجود تھے۔

نیتن یاہو کے مطابق: "تہران میں فرد واحد کی حکومت جاری رہے گی جو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے حصول کے لئے اپنے ملک کی جدوجہد جاری رکھے گا۔" انہوں نے کہا کہ "یہ [ایرانی] حکومت چھے ملین اسرائیلی یہودیوں کو ملیامیٹ کرنے کے لئے ایٹمی ہتھیار بنا رہی ہے۔

یاد رہے کہ کل [جمعہ] کو ایران میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں تقریبا 5 کروڑ اہل ووٹرز موجودہ صدر احمدی نژاد کے جانشین کا انتخاب کریں گے جن کے دور حکومت میں چلنے والے متنازعہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ملک عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام سمیت دیگر تمام ملکی معاملات میں حتمی رائے سمجھے جانے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں۔

نیتن یاہو ایرانی ایٹمی پروگرام کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا مطالبہ ایک عرصے سے کر رہے ہیں تاکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جاسکے، تاہم ایران ان الزامات کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے۔