.

شام میں جاری خانہ جنگی میں 93 ہزار ہلاکتیں: اقوام متحدہ

جولائی 2012ء کے بعد سے ہر ماہ اوسطاً 5 ہزار افراد مارے جا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مس نیوی پلے کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک اور خانہ جنگی میں اپریل 2013ء کے اختتام تک بانوے ہزار نو سو ایک افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

مس نیوی پلے نے شام میں جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کے بارے میں جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ''اس ملک میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ سال جولائی کے بعد سے ہر ماہ پانچ ہزار افراد مارے جارہے ہیں اور یکم دسمبر کے بعد ستائیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''بدقسمتی سے یہ ہلاکتوں کی کم سے کم تعداد ہے۔شام میں جاری خانہ جنگی میں مارے گئے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے''۔ انھوں نے ہلاکتوں کے یہ اعداد وشمار ہلاکتوں کی کل رپورٹ کی گئی تعداد 263055 میں سے فراہم کیے ہیں۔ ان تمام مہلوکین کی نام ،ہلاکت کی جگہ اور تاریخ کے ساتھ شناخت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی شام میں ہلاکتوں سے متعلق اس رپورٹ میں سے 37988 ہلاکتوں کو ناکافی معلومات کی بنا پر نکال دیا گیا ہے کیونکہ ان کے بارے میں ماہرین کو مناسب معلومات دستیاب نہیں ہوئی ہیں اور ہلاکت کے ہر واقعہ سے متعلق تمام رپورٹس کا موازنہ کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں ماہرین شماریات نے تجزیہ کرکے بتایا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔پہلے ہر مہینے اوسطاً ایک ہزار افراد مارے جارہے تھے لیکن جولائی 2012ء کے بعد یہ تعداد پانچ ہزار ماہانہ ہوگئی۔جولائی اور اکتوبر 2012ء کے درمیان ہرمہینے چھے ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

مس نیوی پلے کا کہنا ہے کہ ''شام کی سرکاری فورسز شہری علاقوں پر فضائی حملے اور گولہ باری کررہی ہیں،وہ شہریوں کے خلاف میزائل اور کلسٹر بم بھی استعمال کررہی ہیں۔حزب اختلاف کی فورسز نے بھی شہری آبادی والے علاقوں پر گولہ باری کی ہے اور بم دھماکوں کے نتیجے میں دارالحکومت دمشق اور دوسرے شہروں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں دمشق گورنری کے دیہی علاقوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں جہاں سترہ ہزار آٹھ سو افراد مارے گئے، حمص میں سولہ ہزار چار سو،حلب میں گیارہ ہزار نو سو اور ادلب میں دس ہزار تین سو افراد مارے گئے۔ان کے بعد درعا کا نمبر آتاہے جہاں آٹھ ہزار چھے سو ،حماہ میں آٹھ ہزار ایک سو ،دمشق شہر میں چھے ہزار چار سو اور دیرالزور میں پانچ ہزار سات ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام میں جاری خانہ جنگی میں مارے گئے افراد میں 6۔82 فی صد مرد ،6۔7 فی صد خواتین اور 8۔9 فی صد کی جنس کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔تاہم اس میں جنگجو اور غیر جنگجو کی تمیز نہیں کی گئی ہے اور نہ ایک تہائی مہلوکین کی عمروں کا تعین ہوسکا ہے۔

مس نیوی پلے کا کہنا تھا کہ 6561 بچے بھی خانہ جنگی کی نذر ہوئے ہیں اور ان میں سے 1729 کی عمریں دس سال سے بھی کم تھیں۔ان میں بہت سے بچوں کا ان کے خاندانوں سمیت قتل عام کیا گیا۔انھیں تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔انھوں نے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ مزید ہزاروں ہلاکتوں سے قبل فوری طور پر جنگ بندی کریں کیونکہ اس سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور تنازعے کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔