.

ایران، سعودی عرب تنازع ختم کروانے کے لیے پرعزم ہوں: حسن روحانی

ایرانی صدارتی امیدوار کو آئندہ برس شامی حکومت کے خاتمے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدارتی امیدوار حسن روحانی نے کہا ہے کہ انہوں نے حالیہ عرصے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تیزی سے بڑھنے والی افسوسناک مخاصمت کو ایک دوسرے احترام اور باہمی ہم آہنگی میں تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے تاکہ دونوں ملک باہمی تعاون کے ذریعے ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھ کر خطے کی استحکام اور سکیورٹی کے لیے کام کر سکیں۔

مٶقر عرب روزنامے 'الشرق الاوسط' کے ساتھ ایک ای میل انٹرویو میں انہوں نے زور دیا ’’ایران اور سعودب عرب کے لیے خلیج میں سکیورٹی جیسے اہم ترین مسائل میں مثبت کردار ادا کرنا ممکن ہے‘‘۔ حسن روحانی نے عہد کیا کہ اپنے ایران کے صدر بننے کی صورت میں وہ ہمسایہ ممالک سے ہر سطح پر تعلقات بہتر بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی زمینی اور سمندری سرحدیں 15 ممالک سے ملتی ہیں اور یہ سب کے سب ہمارے لیے اہم ہیں۔

صدارتی امیدوار نے مزید کہا کہ ’’انتخابات میں کامیابی کی صورت میں میرا کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کا ارادہ نہیں اور نہ ہی میں کسی بھی ملک کو ایران میں مداخلت کی اجازت دوں گا‘‘

بحرین سے متعلق سوال پر حسن روحانی کا کہنا تھا ’’ہم بحرین میں سیاسی استحکام، اتحاد اور سکیورٹی پر یقین رکھتے ہیں. یہ سب خطے کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے‘‘. انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کہا کہ یہ پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے۔ لہذا ہم نے کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، تاہم ہمارے جوہری پروگرام کی حقیقت کے بارے میں سیاسی بنیادوں پر ایک بھرپور مہم شروع ہے۔

شام کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014ء کا سال اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس سال صدر بشار الاسد کی مدت صدارت کا ختم ہو رہی ہے، لہذا یہاں پر غیر ملکی مداخت اورتخریب کاری کے بغیر آزاد اور شفاف انتخابات ہی استحکام لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر لازم ہے کہ شام میں جاری خونریزی اور وحشیانہ پن کو کھلا نہ چھوڑیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے متعلق انہوں نے بتایا کہ دستور کے حوالے سے خارجہ امور جیسے تمام بڑے فیصلوں میں مرشد اعلی کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ میرے لیے بڑا اعزاز ہو گا کہ میں مرشد اعلی سے تائید حاصل کرنے کی مہارت حاصل کرلوں. میں نے خاتمی اور رفسنجانی کے ادوار میں قومی سکیورٹی کےمشیر کے طور پر کام کر رکھا ہے۔ حتی کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران میں قومی سکیورٹی میں سپریم کونسل میں مرشد اعلی کے دو ترجمانوں میں سے ایک میں تھا۔ مجھے توقع ہے کہ میں مرشد اعلی کا اعتماد حاصل کر لوں گا۔