.

ترک وزیرخارجہ نے یورپی یونین کی تنقید مسترد کردی

یورپی یونین کا ترک مظاہرین پرطاقت کے بے مہابا استعمال پر اظہارِتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے یورپی یونین کی جانب سے ترک حکومت کی مظاہرین کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کارروائیوں پر تنقید کی مذمت کردی ہے اور اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

یورپی یونین نے جمعرات کو ترک حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ پُرامن مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں نہ کرے۔ رائیٹرز کے مطابق تنظیم نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے بارے میں مصالحتی طرز عمل اختیار کریں۔

یورپی پارلیمان نے اسٹراسبرگ میں منعقدہ اپنے اجلاس میں ایک قرارداد منظوری کی ہے جس میں ترک پولیس کی جانب سے پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے غیر متناسب اور بے مہابا استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قبل ازیں گذشتہ روز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے ترک وزیراعظم ایردوآن پر زوردیا کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیارکریں اور جمہوری طرز عمل اختیار کریں۔

انھوں نے ترکی میں جاری حالیہ شورش کے حوالے سے اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ ایردوآن کو مظاہرین کے بارے میں معاندانہ طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے مفاہمانہ رویہ اپنانا چاہیے۔انھوں نے ترک پولیس کی جانب سے استنبول کے تقسیم چوک میں مجموعی طور پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس ،پلاسٹک کی گولیوں اور پانی کے استعمال کی مذمت کی۔

ترک وزیراعظم نے گذشتہ روز مظاہرین پر زوردیا تھا کہ وہ استنبول کے وسطی علاقے گیزی پارک کو خالی کردیں۔انھوں نے اپنی حکومت کے خلاف مظاہروں کو ترکی کے عالمی تشخص کو مجروح کرنے اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔

استبول میں ایک پارک اور خلافت عثمانیہ دور فوجی بیرکوں کی تعمیر کے متنازعہ منصوبے کے خلاف ترکی کے مختلف شہروں میں اکتیس مئی سے بارہ جون تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرین حکومت سے اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ رہے ہیں لیکن ترک حکومت ان کے اس مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔اس دوران تشدد کے واقعات میں چار افراد ہلاک اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔