.

حسن روحانی بھاری اکثریت سے ایران کے صدر منتخب ہو گئے

نئے صدر کے لئے عالمی برادری کے تہنیتی پیغامات کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ اعتدال پسند مذہبی رہنما حسن روحانی ایران کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سترہ ملین ووٹ لیکر اپنے مدمقابل پانچ قدامت پسند امیدواروں کو شکست دی۔ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی شرح 50.68% رہی۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کی رات روحانی کو ان کی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔

ایوان صدر کے نے ملک میں ہونے والے گیارہویں صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حسن روحانی نے 53% فیصد ووٹ حاصل کئے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے اعلان تک ملک بھر میں قائم 58 ہزار 746 پولنگ اسٹیشنز میں سے 52 ہزار 424 میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

ایران کے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے سربراہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں دنیا بھر سے زیادہ جمہوری انتخاب منعقد کرائے۔

ووٹوں کا بریک اپ

ٹوٹل ووٹ: 32 ملین 189 ہزار اور 621
درست ووٹ: 31 ملین 106 ہزار اور 865
حسن روحانی کے حاصل کردہ ووٹ: 17 ملین

محمد باقر قاليباف: 5 ملین 73 ہزار اور 652 ووٹ یعنی کل ووٹوں کا سولہ فیصد

سعيد جليلی: 3 ملین 665 ہزار اور 234 ووٹ

محسن رضائی: 3 ملین و 593 ہزار اور 507 ووٹ

علی‌ اكبر ولايتی: ایک ملین 969 ہزار اور 351 ووٹ

سيد محمد غرضی: 391 ہزار اور 840 ووٹ

عالمی ردعمل

عالمی برادری نے ایران کےصدارتی انتخابات میں کامیابی پر جہاں حسن روحانی کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے وہیں یہ توقعات بھی وابستہ کی ہیں کہ اب ایران علا قائی اور بین الاقوامی امور میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے گا۔

روحانی کی کامیابی کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے ایک بیان کہا کہ وہ اس توقع کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’ایران علاقائی اور بین الاقوامی امور میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے گا‘‘۔
حسن روحانی کو اپنے مد مقابل امیدواروں پر واضح برتری حاصل ہوئی ہے

اس پہلے وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اوباما انتظامیہ ایرانی عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔ روحانی کی کامیابی کے تناظر میں جاری کئے گئے اس بیان میں یہ کہا گیا گو کہ ایران میں انتخابات انتہائی سخت ماحول میں ہوئے ہیں لیکن امریکا ایرانی عوام کی اکثریت کی رائے کا احترام کرتا ہے۔ اعتدال پسند رہنما کی کامیابی کے کچھ دیر بعد ہی وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کی جانب سے جاری کئے گئے اس بیان میں کہا گیا کہ امریکا صدارتی انتخابات کے دوران ایرانی عوام کی جانب سے جرات کے مظاہرے پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام تر سیاسی پابندیوں کے باوجود ایرانی عوام نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی ہے۔

یورپی یونین نے بھی اعتدال پسند رہنما کی کامیابی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اب ایران کے رویے میں خصوصاﹰ اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مثبت تبدیلی آئی گی۔

ادھر سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ صدارتی الیکشن میں قریب 32 ملین شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان میں سے 51 فیصد نے حسن رو‌حانی کے حق میں ووٹ دیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صدارتی الیکشن میں عوامی شرکت کا تناسب 70 فیصد سے زائد رہا۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹس میں لکھا ہے کہ روحانی کی فتح سے ایران کے باقی ماندہ دنیا کے ساتھ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران کا بین الاقوامی سطح پر متنازعہ ایٹمی پروگرام بھی روحانی کے انتخاب سے متاثر نہیں ہو گا۔ اس لیے کہ ایران میں سلامتی سے متعلق ایسے تمام حساس معاملات میں حتمی فیصلہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کرتے ہیں۔

پچھتر ملین کی آبادی والے ایران کے بارے میں اپنی ایک جائزہ رپورٹ میں خبر رساں ادارے رائیٹرز نے لکھا ہے کہ حسن روحانی کو حاصل ہونے والی واضح کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ ایرانی معاشرے میں کافی حد تک اصلاحات کی خواہش پائی جاتی ہے۔

حسن روحانی ایران کے ایک سابق اعلٰی ترین جوہری مذاکراتی نمائندے ہیں، جو اپنی اعتدال پسندی اور مصالحت پسندانہ سوچ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ ایک ایسی خارجہ پالیسی کو رواج دیں گے، جس کی بنیاد باقی ماندہ دنیا کے ساتھ تعمیری اشتراک عمل پر ہو گی اور ساتھ ہی وہ داخلہ سیاست میں عملی طور پر شہری حقوق کا ایک چارٹر بھی متعارف کرائیں گے