.

دبئی سفر کی 'حرمت' سے متعلق فتوی، سوشل میڈیا میں طوفان برپا

عجیب و غریب فتوے دینے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک عالم دین نے فتوی دیا ہے کہ دبئی کا سفر اختیار کرنا شرعی طور پر حرام ہے۔ اس فتوے نے سوشل میڈیا ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔ ٹیوٹر پر اس 'غیر سنجیدہ' فتوے کے بارے میں مائیکر بلاگرز اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایسے فتوے جاری کرنے والے علماء کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعدد مائیکرو بلاگرز کی رائے میں "ایسے فتوے صادر کرنے والے کسی معاملے کا سنجیدہ حل پیش کرنے کے بجائے اپنی علمی رائے کو کمپنی کی مشہوری کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ماضی میں بھی خوبرو کم سن بچیوں کے لئے نقاب لازمی قرار دینے جیسے فتوے جاری کر کے ایسی ہی 'شہرت' حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

دبئی سفر کو 'غیر اسلامی' قرار دینے سے متعلق فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد افراد نے ایسے 'فتوے' جاری کرنے والے 'علماء' کے لئے سزا کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی پر زور دیا، کیونکہ ایسے معاملات پر غیر سنجیدہ رائے کی وجہ سے مملکت بھی بدنام ہوتی ہے۔

تاہم غیر سنجیدہ فتووں پر سزا کے معاملے پر 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے جدہ یونیورسٹی میں تقابلی جیورسپروڈنس کے پروفسیر الشیخ عبدالعزیز الفوزان نے کہا کہ "فتووں کے اجراء پر پابندی اور انہیں جاری کرنے والے علماء کو سزا دینے پر میرے تحفظات ہیں کیونکہ اہل علم شرعی احکام کی روشنی میں فتوی جاری کرتے ہیں، فتوی دینے والا غلطی کا ارتکاب بھی کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کی علمی اور شخصی آزادی کا احترام کرنا چاہئے۔"

انہوں نے کہا کہ جہاں تک سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اس فتوے کا تعلق ہے جس میں ایک خاتون نے بغیر محرم دبئی سفر کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا اور مفتی صاحب نے یہ رائے دی تھی کہ جہاں منکرات کا ظہور عام ہو، وہاں بغیر محرم خاتون کا سفر اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔