.

سعودی فرمانروا تعطیلات مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے

خطے میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز خطے میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں اپنی تعطیلات مختصر کر جمعہ کی شب مراکش سے مشرقی ساحلی شہر جدہ پہنچے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق جمعرات کے روز امریکا کی جانب سے شامی اپوزیشن کو اسلحہ فراہمی کا اعلان شامی بحران کے ضمن میں واشنگٹن کی ابتک محتاط پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اعلی امریکی حکام نے تاہم واشنگٹن کی جانب سے شامی اپوزیشن کو فراہم کئے جانے والے اسلحے کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔ تاہم قرآئن یہی بتاتے ہیں کہ امریکی 'فوجی سپورٹ' میں یقیناً انہی ہتھیاروں کی فراہمی ہو گی جو اس سے پہلے امریکا شامی اپوزیشن کو دینے سے انکار کرتا چلا آیا ہے۔ تاہم یہ بات ابھی واضح نہیں کہ ہتھیار ہلکے ہوں گے یا بھاری؟

ادھر امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے بتایا ہے کہ امریکی حکام شامی باغیوں کو اسلحہ فراہمی کی تفصیل شاید اس وقت وجہ سے نہیں بتا رہے کہ ایسی امداد 'کلاسیفائیڈ' معلومات کے زمرے میں آتی ہوں اور اس بات کا امکان ہے کہ امریکی سی آئی اے یہ اسلحہ خفیہ طریقے سے چنیدہ شامی باغیوں کو فراہم کیا جائے۔

جیش الحر کے سرکردہ فوجی رہنما سلیم ادریس کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہمیں جنرل ادریس کی جانب سے شامی فوجی کونسل کی درخواست پر کان دھرنے ہوں گے کیونکہ ایسا کرنا خود ہمارے اپنے قومی مفاد میں ہے۔"

سعودی عرب شامی اپوزیشن کو اسلحہ فراہمی کا مسلسل مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ مملکت نے شامی فوج کی حالیہ پیش قدمی کے بعد دمشق کے خلاف ٹھوس موقف سامنے لانے کی غرض سے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ اور ایران کی مدد سے شامی فوجی لبنانی سرحد کے قریب واقع ایک اہم اسٹرٹیجک شہر القصیر کا کنڑول حاصل کر چکی ہے اور اب شامی فوجیں اپنے غیر ملکی اتحادیوں کی مدد سے حمص اور حلب کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔