.

اسرائیل کے لئے جاسوسی پر مشتبہ مصری شہری گرفتار

گرفتار شخص پر بدنام زمانہ 'موساد' کے لئے جاسوسی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری سیکیورٹی فورسسز نے ایک شہری کو اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ سرکاری وکیل استغاثہ کے مطابق مشتبہ مصری شہری کو تفیش کی غرض سے پندرہ دن کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' نے وکیل استغاثہ کا بیان نقل کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کئے جانے والے شخص پر بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ادارے 'موساد' کے لئے کام کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملزم نے 'موساد' سے رابطے میں پہل کی جس کے بعد سن 2011ء میں خفیہ ادارے میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔ مشتبہ شخص نے، خبر رساں ادارے کے بہ قول، اسرائیل کو اہم معلومات فراہم کی تھیں۔ تاہم ان معلومات کے بارے میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کس نوعیت کی تھیں۔

مصری شہری سے ہونے والی تفتیش میں یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ اس نے سیکیورٹی فورسز سے جھوٹ بولا کہ اس نے موساد کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کو اس وقت ٹھکرا دیا کہ جب اسے احساس ہوا کہ مصری حکام اس کی نگرانی کر رہے ہیں ۔"

خبر رساں ایجنسی کے بہ قول حکام نے مشتبہ شخص سے ایسے آلات بھی برآمد کئے جن کی مدد سے وہ اپنے کاروباری ٹھکانے سے موساد کے ساتھ رابطے میں رہتا تھا، مینا نے قبضے میں لئے جانے والے آلات کی تفصیل نہیں بتائی۔

یاد رہے کہ مصر میں ان دنوں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے والے ایک اردنی انجینئیر کے مقدمے کی سماعت ایک عدالت میں جاری ہے۔

مصر نے جون دو ہزار گیارہ میں اسرائیل اور امریکا کی دوہری شہریت رکھنے والے ایلن گریپل کو اسرائیل کے لئے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی تھی، تاہم اسے بعد میں مصر اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے تبادلے میں صرف چار ماہ کی قید کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اسرائیل اور مصر کے درمیان اسیران رہائی کے معاہدے کے بموجب 25 مصریوں کو رہائی ملی تھی۔