.

ترکی:دو بڑی یونینوں کی مظاہرین پر پولیس تشدد کے خلاف ہڑتال کی اپیل

استنبول میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی دو بڑی یونینوں کیسک اور ڈسک نے استنبول میں حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کے تشدد کے خلاف سوموار کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

کیسک کے ترجمان باقی چینار نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم کل ملک بھر میں ہڑتال کریں گے اور اس میں ڈسک اور دوسری پیشہ ورانہ تنظیمیں بھی حصہ لیں گی۔ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ مظاہرین کے خلاف پولیس کے تشدد کو فوری طور پر روکا جائے''۔

درایں اثناء استنبول میں ترک حکومت کے ہزاروں حامیوں نے مظاہرہ کیا ہے جبکہ پولیس نے تقسیم چوک اور اس سے ملحقہ گیزی پارک میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ان پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ہے۔

ترک پولیس نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب گیزی پارک کو مظاہرین سے خالی کرالیا تھا۔باوردی اور سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے استنبول کے تقسیم چوک اور گیری پارک کو سیل کردیا اور وہاں دھرنا دینے والے حکومت مخالف کارکنوں کو زبردستی اٹھا کر چلتا کیا۔

گورنر استنبول حسین عونی متلو نے بتایا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین سے تقسیم چوک اور گیزی پارک کو خالی کرانے کی کارروائی میں انتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم ان میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں۔

گورنر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ تقسیم اسکوائر میں اب کسی کو بھی حکومت کے خلاف دھرنا دینے یا احتجاج کے لیے جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز مظاہرین کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ پارک کو خالی کردیں۔انھوں نے آج وہاں اپنی جماعت کی ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔

انھوں نے انقرہ میں اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے ) کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین سے کہا کہ ''تقسیم (چوک) کو خالی کردیں۔اگر اس کو خالی نہ کیا گیا تو اس ملک کی سکیورٹی فورسز یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس کو کیسے خالی کرانا ہے''۔انھوں نے کہا کہ ''کوئی بھی ہمیں ڈرا دھمکا نہیں سکتا۔ہم اللہ کے سوا کسی سے احکامات یا ہدایات نہیں لیتے ہیں''۔