.

مصری پولیس کا سیاسی دفاتر کو سکیورٹی فراہم نہ کرنے کا اعلان

ماضی کی غلطیاں دہرانے اور مظاہرین کے خلاف اسلحہ نہ اٹھانے کا عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس کلب نےکسی بھی سیاسی جماعت کے دفترکو تحفظ فراہم نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پولیس اپنے ہیڈ کوارٹرز پر، بالخصوص آئندہ 30 جون کے مظاہروں کے دوران، کیے جانے والے کسی بھی حملے کا جواب آہنی ہاتھوں سے دے گی۔

پولیس کلب نے ماضی کی غلطیاں نہ دہرانے، پرامن مظاہریں کے خلاف ہتیھار اٹھانے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کئے بغیر مکمل طور پر غیر جانبدار رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پولیس حکام نے قوم سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی کی ضمانت کے لیے پولیس کا بھرپور ساتھ دے۔

اس سے قبل تیرا جون کو وزیر داخلہ میجر جنرل محمد ابراھیم بھی اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ وزارت قانون کی ہدایت کے مطابق 30 جون کو ہونے والے مظاہروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ان کی وزارت سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر شہری کے تحفظ کی شدید خواہش مند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ مصری شہریوں، ان کی املاک اور اہم تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرتی رہے گی۔

وزیر موصوف نے ایک سابقہ بیان میں مظاہرے کی جگہوں پر کسی پولیس یا فوجی کو نہ بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پرامن مظاہرین کو اپنے موقف کے اظہار کا بہتر موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ بہ قول وزیر قانون سکیورٹی فورسز اس وقت تک مظاہرین کو نہیں چھیڑیں گے جب تک ان کا احتجاج پرامن رہے گا۔

میجر جنرل محمد ابراھیم مظاہروں سے تین دن قبل سے تمام سرحدی کراسنگز بند کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں جس کا مقصد ان کے بہ قول کسی غیر ملکی کی جانب سے قانون کی پامالی کے واقعات سے محفوظ رہنا ہے۔

امن عامہ کے مفادات کے شعبہ کی جانب سے منعقد ایک اجلاس میں محمد ابراھیم نے اپنے معاونین، سکیورٹی ڈائریکٹرز اور دیگر اہم ڈیپارٹمنٹس کے ڈائریکٹر سے بات چیت کی اور کہا کہ پولیس، جس کی قربانیوں کا اعتراف صرف کوئی لاعلم شخص ہی کر سکتا ہے، کے کردار کو مزید داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا، پولیس کے پاس قومی مفادات پر ثابت قدم رہنے کا پورا عزم اور شہریوں کے حق میں جانبدار رہنے اور پرامن مظاہرین سے تعرض نہ کرنے کی بھرپور خواہش ہے۔

انہوں نے مظاہرین سے قانون کے دائرے سے نہ نکلنے اور اپنے رائے کے اظہار کو پرامن پیرائے میں رکھنے اور 30 جون کے روز جمہوری اصولوں اور اقدار پر ثابت قدمی رہنے کی اپیل کی۔

اجلاس میں وزیر داخلہ کو گزشتہ عرصے کے سکیورٹی حالات کی بھی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی سکیورٹی حکمت عملی میں شہریوں کے مفادات، تمام ہم وطنوں کو پرامن حالات کی فراہمی اور سرکاری اور نجی املاک کی حفاظت کو ترجیح حاصل ہے۔