.

مصر نے شام سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیئے

دمشق سے میں مصری سفارتخانہ بند، چارج ڈی افیئرز کی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے ہفتے کی شب شامی حکومت سے تمام قسم کے تعلقات منقطع کا اعلان کرتے ہوئے دمشق میں مصری سفارتخانہ بند اور وہاں تعینات مصری چارج ڈی افیئرز کو واپس قاہرہ رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

قاہرہ میں' نصرت شام' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا کہ ہم نے آج دمشق حکومت سے تمام تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ "میں شام میں مصری سفارتخانہ بند کرنے کا حکم دیتا ہوں اور وہاں سے قاہرہ کے چارج ڈی افیئرز کو وطن واپسی کی ہدایت کی جاتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ شام کی موجودہ حکومت کی ملکی مستقبل میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ بشار الاسد حکومت نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے مصری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شام سے مصر ہجرت کرنے والے شامی شہریوں کے ساتھ اپنے ہم وطنوں جیسا سلوک کریں۔

صدر محمد مرسی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سن 2006ء میں ہم نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی جنگ میں اس کا ساتھ دیا اور آج ہم شام میں حزب اللہ کی جارحیت پر اس کی خم ٹھونک کر مخالفت کرتے ہیں۔ "ہم نے عرب ملکوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں تاکہ شام کے حوالے سے ایک ہنگامی سربراہی اجلاس بلایا جا سکے۔"

محمد مرسی نے تمام شامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قاہرہ، شام میں غیر ملکی فوجی اور سیاسی مداخلت کے خلاف ہے۔

ملکی حالات کے حوالے سے مصری صدر نے کہا کہ اپوزیشن کے تیس جون کو اعلان کردہ احتجاجی مظاہروں کو روکا جائے گا کیونکہ یہاں عبث پھیلانے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا اشارہ سابق صدر حسنی مبارک کے حاشیہ برداروں کی جانب تھا۔ انہوں نے مصری عوام پر زور دیا کہ وہ تشدد کی طرف مائل نہ ہو اور نہ ہی کسی اشتعال انگیز کارروائی کو خاطر میں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے ہاں تشدد کی اجازت نہیں دیتا، خواہ اس کی بنیاد کچھ بھی ہو۔