.

ترک پولیس کی مظاہرین کے خلاف ملک گیر کارروائی، بیسیوں گرفتار

حکومت کے خلاف مظاہروں پر اُکسانے والے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں گذشتہ قریباً تین ہفتے سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بعد پولیس نے ملک گیر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردی ہیں اور اس دوران بیسیوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ترکی کے سرکاری میڈیا ٹی آر ٹی کی اطلاع کے مطابق منگل کو دارالحکومت انقرہ میں پچیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔مغربی شہر ایسک سحر سے تیرہ اور سب سے بڑے شہر استنبول سے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے ایک ذریعے نے اس کارروائی کی تصدیق کی ہے اور برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ فی الوقت مظاہروں پر اکسانے والے افراد کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

استبول میں ایک پارک اور خلافت عثمانیہ دور کی فوجی بیرکوں کی ازسرنو تعمیر کے متنازعہ منصوبے کے خلاف ترکی کے مختلف شہروں میں اکتیس مئی سے احتجاجی مظاہرے جاری رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرین حکومت سے اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ رہے ہیں لیکن ترک حکومت ان کے اس مطالبے کو مسترد کرچکی ہے۔اس دوران تشدد کے واقعات میں چار افراد ہلاک اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

استنبول کا تقسیم اسکوائر حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ترک پولیس کے سیکڑوں اہلکاروں نے تقسیم اسکوائر پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں جمع مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے اور پانی پھینکا۔پولیس نے تقسیم چوک اور اس کے آس پاس لگے مظاہرین کے بینرز بھی اتار دیے تھے۔