.

جی ایٹ کا شامی تنازعے کے حل کے لیے امن کانفرنس جلد بلانے پر زور

شام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر گہری تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کے لیڈروں نے شامی تنازعے کے حل کے لیے جنیوا میں جلد سے جلد امن کانفرنس بلانے کی حمایت کردی ہے۔

شمالی آئرلینڈ کے سیاحتی مقام اینسکلین میں جی ایٹ کے دوروزہ سربراہ اجلاس کے بعد منگل کو جاری کردہ اعلامیے میں شام میں اتفاق رائے سے عبوری حکومت کے قیام سے متعلق سمجھوتا طے کرنے کی بات کی گئی ہے اور مستقبل کے سیٹ اپ میں فوجی اور سکیورٹی سروسز کو بحال رکھنے پر زوردیا گیا ہے۔

گروپ آٹھ نے کہا کہ اسے شام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے گہری تشویش لاحق ہے۔ان بڑی طاقتوں کے لیڈروں نے مشترکہ اعلامیے میں شامی حکومت اور حزب اختلاف سے کہا ہے کہ وہ القاعدہ اور دہشت گردی سے وابستہ کسی بھی غیر ریاستی کردار سے تعلق رکھنے والی تمام تنظیموں اورافراد کو ملک سے نکال باہر کریں۔

جی ایٹ سربراہ اجلاس کے میزبان برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ''یہ سوچنا بھی محال ہے کہ بشارالاسد کا شام کی عبوری حکومت میں کوئی کردار ہوگا''۔تاہم گروپ کے اعلامیے میں ان کے اس بیان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

درایں اثناء روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنے ملک کی جانب سے شامی حکومت کو نئے ہتھیار بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔انھوں نے سربراہ اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر ہم کچھ معاہدے کرتے ہیں تو پھران معاہدوں کے تحت کچھ مہیا کرنا بھی ہو گا''۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک جائز حکومت کو قانونی معاہدوں کے تحت ہی اسلحہ مہیا کررہے ہیں''۔