.

جی ایٹ کے لیڈر شامی تنازعے پر سمجھوتے کے لیے کوشاں

گروپ کے بعض لیڈروں میں تنازعے کے حل کے حوالے سے اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک (جی ایٹ) کے لیڈر شام میں جاری تنازعے کے پرامن حل کے لیے معاہدے کے قریب ہیں جبکہ بعض لیڈروں کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے نقشہ راہ کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

شمالی آئرلینڈ میں منعقدہ جی ایٹ کے سربراہ اجلاس کے ایجنڈے میں شام کا تنازعہ سرفہرست رہا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ جی ایٹ کے لیڈروں میں شام میں صدر بشارالاسد کے بعد عبوری حکومت کی نوعیت کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

ان ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتین شام کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر نظرثانی کو تیار نہیں جبکہ باقی سات ممالک ایک ہی موقف پر قریب قریب متفق ہوچکے ہیں۔تاہم جنیوا میں شام سے متعلق مجوزہ امن کانفرنس کا جولائی میں بھی انعقاد ناممکن نظر آرہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شام سے متعلق سمجھوتا ممکن ہے لیکن سربراہ اجلاس کے اختتام سے قبل مزید بات چیت ہوگی۔روسی صدر ولادی میر پوتین اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان سوموار کو بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی لیکن انھوں نے شام کے حوالے سے اپنے اختلافات کے خاتمے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

روسی صدر نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ یقینی طور پر ہماری آراء مختلف ہیں لیکن ہم میں سے ہر کوئی شام میں تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے۔روسی صدر شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ امریکا اور برطانیہ وغیرہ بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے حال ہی میں شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے اعلانات بھی کیے ہیں۔

درایں اثناء جی ایٹ کے لیڈروں نے دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے افراد کی رہائی کے لیے تاوان میں رقم نہ دینے سے اتفاق کیا ہے اور کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے یرغمال کارکنان کی رہائی کے لیے دہشت گردوں کو رقوم ادا نہ کریں۔

برطانوی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اس ضمن میں معاہدے کے لیے پیش پیش ہیں کیونکہ تاوان میں حاصل کی گئی رقم دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور خاص طور پر شمالی افریقہ میں القاعدہ سے وابستہ گروپ مغربی شہریوں کو یرغمال بنا کر ان کی رہائی کے بدلے میں وصول ہونے والی رقم سے اپنا نظام چلا رہے ہیں۔