.

افغان صدرکا نیٹو فورسز سے سکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کا اعلان

امریکا کی قیادت میں غیر ملکی فوج افغان فورسز کی معاونت اور تربیت کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ان کی مسلح افواج اب ملک میں موجود امریکا کی قیادت میں نیٹو کی فوجوں سے سکیورٹی کا کنٹرول سنبھال رہی ہیں اور وہی اب سکیورٹی امور میں قیادت کریں گی۔

حامد کرزئی نے یہ اہم اعلان منگل کو ایک نشری تقریر میں کیا ہے اور یہ نیٹو کی قیادت میں افغانستان میں گذشتہ بارہ سال سے جاری جنگ کے بعد ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اب ہماری بہادر مسلح افواج سکیورٹی کی تمام ذمے داری اور قیادت سنبھالیں گی''۔

امریکا اور نیٹو کی افواج اب جنگ زدہ ملک میں افغان سکیورٹی فورسز کی معاونت کریں گی اوران کی تربیت کریں گی۔ان کی آیندہ اٹھارہ ماہ کے دوران اپنے اپنے ملکوں کو بتدریج واپسی بھی جاری رہے گی اور دسمبر 2014ء کے آخر تک افغانستان سے مکمل انخلاء ہوجائے گا۔

افغان صدر کے اعلان کے بعد اب ملک کے باقی پچانوے اضلاع کا کنٹرول بھی نیٹو فورسز سے افغان فورسز کے حوالے کیا جارہا ہے۔ان میں جنوبی اور مشرقی افغانستان کے وہ شورش زدہ علاقے بھی شامل ہیں ،جہاں اکتوبر 2001ء میں امریکا کے حملوں اور جنگ چھڑنے کے بعد سے طالبان مزاحمت کاروں کی سرگرمیاں کسی تعطل کے بغیر جاری رہی ہیں اور ان علاقوں میں عملاً طالبان ہی کا کنٹرول ہے۔

نیٹوممالک کی اس وقت میں افغانستان میں ایک لاکھ کے لگ بھگ فوج موجود ہے اور افغان پولیس اور فوج کو کنٹرول حوالے کرنے کے بعد اب طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی کی افغان فورسز قیادت کریں گی لیکن افغان فورسز کی ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے درکار صلاحیت کے حوالے سے سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں اور اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز جنوبی اور مشرقی علاقوں میں خاص طور پر طالبان جنگجوؤں کی مزاحمتی سرگرمیوں پر قابو پاسکیں۔