.

بشار حکومت کے خلاف فوجی انقلاب کے آپشن پر غور شروع

شام کی اعلی سول اور فوجی قیادت کے تعاون سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے شام میں اسد حکومت کے خلاف حصار تنگ کرنے اور ملک میں فوجی انقلاب پر مشتمل نئے منصوبے پرغور شروع کردیا۔

برطانوی اخبار "ٹائمز" نے اپنی حالیہ اشاعت میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے بیانات کا حوالے سے بتایا ہے کہ اس منصوبے میں شامی صدر کے حاشیہ بردار اہم عمال کو اسد حکومت کا خاتمہ کرکے انقلاب لانے کی صورت میں شام کی تعمیر نو میں اہم کردار دینے اور فوج کی اعلی قیادت کو ہدف نہ بنانے اور سکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق ’’جی ایٹ‘‘ ممالک کی کانفرنس میں شامی صدر کی برطرفی سے متعلق روس سے بات چیت میں ناکامی کے بعد مغربی ممالک نے اس ضمن میں دیگر منصوبوں پر شروع کردیا ہے. انہی منصوبوں میں سے ایک شام میں فوجی انقلاب کا آپشن بھی ہے۔

روزنامہ ’’ٹائمز‘‘ نے مجوزہ مغربی منصوبے کے خدوخال کے بارے میں بتایا ہے کہا کہ شمالی آئرلینڈ کی ’’جی ایٹ‘‘ کانفرنس میں قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شام میں داخلی انقلاب کی کسی صورت میں اسد حکومت کے بعض اعلی عہدیداروں کو نئی شامی حکومت میں ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار سپرد کیا جا سکتا ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق ’’جی ایٹ‘‘ ممالک کے رہنماؤں نے شامی فوج کی اہم سول اور فوجی قیادت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ شامی حکومت کی رخصتی کی صورت میں ان سے تعرض نہیں کیا جائے گا. یہ آپشن انہیں شامی حکومت سے علاحدگی پر آمادہ کرنے کی غرض سے فلوٹ کیا گیا ہے۔ مغربی ممالک نے شام کی اعلی سول و فوجی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ اگر اسد حکومت کو گرا دیا جائے تو انہیں مطلوبہ سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کی جائے گی۔

روزنامے کا خیال ہے کہ مغربی ملکوں نے یہ آپشن عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے اور ان کے تمام فوجی عہدیداروں کو معزول کرنے کے بعد شروع ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی کو مد نظر رکھ کر تشکیل دیا ہے۔

اخبار نے برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے حوالے سے مزید بتایا کہ جی ایٹ کی قیادت اسد کے حامیوں، جو ان کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہیں، کو یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ اسد کی حکومت جانے والی ہے اور ایسا ممکن ہے کہ شامی صدر کی رخصتی کے بعد شام خانہ جنگی کا شکار نہ ہو۔