.

بشارالاسد نے اقتدار چھوڑا تو شام میں سیاسی خلاء پیدا ہوجائے گا: پوتین

شامی صدر کی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گرد تنظیمیں خلاء پرکریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنی اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر صدر بشارالاسد نے اب اقتدار چھوڑا تو شام میں سیاسی خلاء پیدا ہوجائے گا۔

انھوں نے یہ بات جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کے ساتھ جمعہ کو مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ'' اگر شام میں فی الوقت حکومت کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو ہمیں ممکنہ سیاسی خلاء پیدا ہونے پر تشویش ہے''۔

انھوں نے سوال کیا کہ اگر بشارالاسد آج ہی چلے جاتے ہیں تو پیدا ہونے والے سیاسی خلاء کو کون پُر کرے گا؟ان کا جواب تھا کہ ممکنہ طور پر دہشت گرد تنظیمیں۔

ولادی میر پوتین نے روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر کہا کہ جی ایٹ کے رکن ممالک شام میں تشدد کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور اس ضمن میں وہ شامی تنازعے کے بارے میں مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس کا جلد انعقاد چاہتے ہیں۔

روسی صدر نے یاد دہانی کرائی کہ حالیہ جی ایٹ سربراہ اجلاس میں رکن ممالک نے تصدیق کی کہ شام میں تشدد کا خاتمہ اور متحارب فریقوں کے درمیان سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ان کے اولین مقاصد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ وہ القاعدہ سے وابستہ شامی باغیوں کے گروہوں کو کیوں ہتھیار مہیا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم صدر پوتین کے مطابق یہ موقف غلط ہے کہ مسئلہ شام سے متعلق روس ،امریکا اختلافات کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ولادی میر پوتین نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ نے باغیوں کی فوجی حمایت کو قطعی نامناسب قرار دیا ہے۔ "بحران سے نمٹنے کا راستہ صرف شامی عوام ڈھونڈ سکتے ہیں، انھیں قیام امن کے لیے کلیدی کوششیں کرنا ہوگی"۔ان کا کہنا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس نے گذشتہ ماہ جنیوا میں شامی بحران کے حل کے لیے جون میں امن کانفرنس کے انعقاد سے اتفاق کیا تھا لیکن ابھی تک ضمن میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔جی ایٹ کے سربراہ اجلاس میں حال ہی میں اس کانفرنس کے جلد سے جلد انعقاد پر زوردیا گیا ہے۔تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق جولائی میں بھی اس کانفرنس کا انعقاد نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک شامی تنازعے کے حوالے سے اپنے اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

روسی صدر شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی تو مخالفت کررہے ہیں لیکن انھوں نے اپنے ملک کی جانب سے شامی حکومت کو نئے ہتھیار بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔انھوں نے جی ایٹ سربراہ اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر ہم کچھ معاہدے کرتے ہیں تو پھران معاہدوں کے تحت کچھ مہیا بھی کرنا ہو گا''۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک جائز حکومت کو قانونی معاہدوں کے تحت ہی اسلحہ مہیا کررہے ہیں''۔

لیکن دوسری جانب مغربی ممالک شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو اسلحہ مہیا کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اگلے روزکہا کہ ''ہم روس کو کیسے بشارالاسد رجیم کو اسلحہ مہیا کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں جبکہ حزب اختلاف کو بہت تھوڑا اسلحہ مہیا ہورہا ہے اور ان کا قتل عام بھی کیا جارہا ہے''۔