.

روسی صدر کا ایس۔300 میزائل سسٹم بنانے والی فیکٹری کا دورہ

شام کو میزائل شکن نظام دینے کا معاہدہ چند سال قبل طے پایا تھا: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایس۔300 میزائل شکن دفاعی نظام سمیت جدید فضائی دفاعی ہتھیار بنانے والی فیکٹری کا دورہ کیا ہے۔

انھوں نے ایسے وقت میں اس فیکٹری کا دورہ کیا ہے جب روس اور امریکا کے درمیان اول الذکر کی جانب سے شام کو جدید اسلحہ مہیا کی ڈیل کے حوالے سے اختلافات پائے جارہے ہیں۔

روس نے 2010ء میں شامی صدر بشارالاسد کو جدید فضائی دفاعی نظام مہیا کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن ابھی تک اس نے شام کو یہ جدید دفاعی نظام مہیا نہیں کیا ہے اور اب امریکا سمیت یورپی ممالک کی جانب سے بشارالاسد کی حکومت کو یہ نظام مہیا کرنے کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔

روسی صدر اور دوسرے عہدے دار یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ روس کے شام کے ساتھ معاہدے قانونی ہیں اور ان کا مقصد فوجی توازن کو بگاڑنا نہیں۔صدر ولادی میر پوتین نے فیکٹری کے دورہ کے موقع پر ایس۔300 میزائل سسٹم کی تعریف کی اور کہا کہ شام کو ان کی فروخت کے لیے معاہدے پر کئی سال قبل دستخط ہوئے تھے لیکن ابھی اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

درایں اثناء روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ یورپ میں میزائل شکن دفاعی نظام کی تنصیب کے منصوبے کے چوتھے مرحلے پر عمل درآمد سے امریکا کے گریز کے باوجود روس میزائل شکن دفاعی نظام کو فروغ دینے کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوگا۔

انھوں نے روس کے سرکاری ٹی وی چینل "روسیا 23" کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''روس میزائل شکن دفاعی نظام سے متعلق سرگرمیاں شفاف بنانے کے لیے امریکی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن اس تجویز کو ابھی تک عملی شکل نہیں دی جا سکی ہے اورنہ ہماری تشویش دورہوئی ہے اس لیے ہمیں جوہری طاقتوں کے توازن کو بگڑنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے''۔