.

سعودی عرب کی پہلی خاتون ہواباز کو جہاز اڑانے کا لائسنس جاری

لائسنس شہری ہوابازی کی کامیاب تربیت کے بعد جاری کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب شہری ہوابازی اتھارٹی نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو جہاز اڑانے کے لئے ہوابازی کا لائسنس جاری کیا ہے۔ پائلٹ بننے والی یہ خوش نصیب عائشہ جعفری ہیں، جنہیں زیر تربیت خواتین کے نو رکنی گروپ میں سب سے پہلے پائلٹ کا لائنسنس ملنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ دیگر خواتین تاحال زیر تربیت ہیں۔ ہوابازی کی شرائط پوری ہونے پر گروپ کی باقی خواتین کو کو پائلٹ کا لائسنس جاری کیا جائے گا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان خالد الخیبری نے معاصر عزیز 'الاقتصادیہ' کو بتایا کہ "عائشہ کو محکمہ شہری ہوابازی کے زیراہتمام جہاز اڑانے کی مکمل تربیت فراہم کی گئی۔ ہوابازی کے تمام پیشہ ورانہ پہلوؤں سے کوالیفائی کرنے کے بعد اسے ملک کی پہلی خاتون پائلٹ کے طورپر منتخب کیا گیا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ عائشہ کے سول ایوی ایشن میں اس عہدے پر پہنچنے سے خواتین کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

پائلٹ بننے والی عائشہ جعفری کا کہنا تھا کہ ہوابازی کے شوق کی وجہ سے انہوں نے خصوصی تعلیم کے ڈپلومہ حاصل کیا۔ ڈپلومہ اور ضروری تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے اس میدان میں قدم رکھا۔ دوران تربیت انہیں اطمینان بخش ماحول میسر رہا۔ بطورپائلٹ خدمات انجام دیتے ہوئے بھی اسے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ پائلٹ اپنے مخصوص کیبن میں رہتا ہے، جس کا فیلڈ سے تعلق نہیں ہوتا۔ عائشہ نے تسلیم کیا کہ ہوابازی ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے تاہم وہ سے احسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرے گی۔ پہلی خاتون پائلٹ نے اپنی ساتھی خواتین کے بارے میں بھی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ بھی جلد ہوابازی کے مطلوبہ معیار کو پہنچ جائیں گی۔