.

مصری عالم دین کا مرسی مخالف مظاہرین کے قتل کا فتویٰ

مظاہرین کا قاتل جنتی اور مظاہرین دوزخی ہیں: اشرف عبدالمنعم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکے شریعت بورڈ برائے حقوق و اصلاح کے ایک سرکردہ رُکن اور مذہبی رہ نما اشرف عبدالمنعم نے تیس جون کوصدر محمد مرسی کے خلاف اپوزیشن کی ملک گیر احتجاجی کال کی شدید مذمت کرتے ہوئے فتویٰ دیا ہے کہ احتجاج کی کال دینے والے اپوزیشن رہ نما "مُجرم" اور "دین بیزار" ہیں ان کا ساتھ دینے والا عصیان کا مرتکب ہو گا۔

خیال رہے کہ مصر کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے صدر محمد مرسی کی پالیسیوں کےخلاف تیس جون کو ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ صدر مرسی اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قبل از وقت صدارتی انتخابات کا اعلان کریں۔ یہ مظاہرے اور ان کے ردعمل میں فتووں کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی طور پر سخت افراتفری کا شکار ہے۔

فتوے میں علامہ عبدالمنعم کا کہنا ہے کہ "ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں دین اسلام کا تمسخر اڑنے والے بعض مذہب بیزار مجرموں اور ان کے حامی فرقہ پرستوں نے اپنے مخالفین پر اسلحہ اٹھانے اور ان کے قتل کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔ ایوان صدر کی پالیسیوں پر اعتراض کا دعویٰ کرنے والے ان مجرموں اور ان میں شامل دھوکے بازوں میں مسترد شدہ سابق حکمرانوں کی باقیات بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی ظالمانہ سرگرمیوں کا آغاز مساجد پرحملوں سے کیا۔ مقدس مقامات کی حرمت پامال کی۔ اب ان لوگوں کا نشانہ ہر وہ مردو زن ہے جس کی پہچان اسلام ہے۔ اب یہ لوگ بے گناہ شہریوں، ان کی املاک اور پُرامن گھروں پر بھی دست درازی کرنا چاہتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایوان صدر کی پالیسیوں پراعتراضات کے علی الرغم ملک کی موجودہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اپوزیشن کی کال پرمظاہروں میں شرکت سے انکار کر دے۔ اب یہ بات کھل کرسامنے آ گئی ہے کہ یہ لوگ گمراہ اور اسلام سے بیزاری کے لیے اکھٹے ہو رہے ہیں۔ اگران سے ملک و قوم کا دفاع قتال کے ذریعے ممکن ہے تو ان کے خلاف لڑنا بھی واجب ہے۔ ہمیں ہر صورت میں اس ظلم وتعدی کو روکنا ہوگا"۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے علامہ المنعم کا کہنا تھا کہ "تیس جون کے مظاہروں کے دوران مظاہرین کےخلاف لڑتے ہوئے جو شخص مارا جائے گا، وہ جنت میں جائے گا اور مظاہرین کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا"۔