.

یمنی 15 اکتوبر کو نئے آئین کے لیے ریفرنڈم میں حصہ لیں گے

عید الاضحی کے موقع پر ووٹنگ میں شہریوں کی بھرپور شرکت متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے الیکشن کمیشن نے ملک کے نئے دستور کے لیے ریفرنڈم 15 اکتوبر کرانے کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیش کے میڈیا سیل کے سربراہ جسٹس عبد المنعم الحکمی نے صحافیوں کو ارسال کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ووٹرز کی اموات کا اندراج اور تکرار کو ختم کرنے کے بعد انتخابی ضوابط کے مطابق مختلف پارٹیوں سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ وہ ریفرنڈم پر اتفاق کر سکیں۔

جسٹس عبد المنعم الاریانی نے کہا کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران نئی ویب سائٹ کی تیاری کے ٹینڈر جاری کر دیئے جائیں گے۔ الیکٹرانک انتخابی فہرستوں کی تیاری کے لیے اس وقت تین انٹرنیشنل کمپینوں نے ٹینڈرز جمع کروا رکھے ہیں۔

عید کے دن ووٹنگ!

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ الیکشن کمیشن نے ریفرنڈم کے لیے غلطی سے پندرہ اکتوبر کا اعلان کیا ہے کیونکہ اس دن عید الاضحی ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس تاریخ میں صرف ایک یا دو دن کی تاخیر کا اعلان کر سکتا ہے کیونکہ کمیشن کا کہنا ہے کہ عید کی چھٹیوں کی وجہ سے تمام لوگ اپنے اپنے دیہاتوں اور علاقوں میں لوٹ چکے ہونگے اور یہ سب اپنے طور پر یا قبائلی سرداروں، اراکین پارلیمان، مقامی کونسلوں اور مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کے نتیجے میں بآسانی ریفرنڈم کمیٹیوں کا رخ کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے آئین پر ریفرنڈم کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متعدد گروپوں نے یمن کو درپیش مسائل کے مختلف حل پیش کرنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس منعقد کرنے کے لیے رابطے کیے ہیں۔ یمن کو درپیش معاملات میں جنوبی یمن، تشدد کے واقعات میں اضافہ، سیاسی نظام، بنیادی آزادیوں اور حقوق کا حصول، فوج، سکیورٹی اور عدالتی نظام کی تشکیل اور ساتھ ساتھ نئے دستور کی تشکیل کے معاملات شامل ہیں۔

بنیادی اور اہم مسائل

سیاسی تجزیہ کارعبداللہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ریفرنڈم کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، اس ضمن میں وقت کا تعین بھی کردیا گیا ہے، اس حوالے سے تکنیکی منصوبے پر بھی عمل شروع کردیا گیا ہے لیکن حقائق کے حوالے سے دیکھیں تو نئے آئین پر ریفرنڈم خلیجی منصوبے اور اس کے انتظامی فارمولے کے مطابق ہورہا ہے لہذا اس کے لیے یمن کے اہم اور بنیادی معاملات پر اتفاق رائے ہونا چاہیے بالخصوص ریاست کی حیثیت کے بارے میں تعین ضروری ہے، ایک جانب جنوب میں جاری تحریک یمن کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے تو دوسری گروپ اس کو علیحدگی کی جانب قدم قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں پر مشتمل فیڈریشن کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح ایسی متحد ریاست جس میں وسائل اور اختیارات کی مناسب طریقے سے تقسیم ہو، کا بھی تقاضا کیا جارہا ہے۔ ان معاملات میں اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔