.

یورپی یونین حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دینے میں ناکام

لبنانی تنظیم کے خلاف اقدام سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشے کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے رکن ممالک لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انھوں نے اس خدشے کا اًظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے لبنان سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق برطانیہ تنظیم کے رکن ستائیس ممالک کو حزب اللہ کو اتفاق رائے سے بلیک لسٹ قرار دینے کے لیے آمادہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر بات چیت ختم نہیں ہوئی اور برطانیہ اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اور ممکنہ طور پر جولائی میں وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھا سکتا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریا اور جمہوریہ چیک حزب اللہ کو یورپی یونین کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔اس فہرست میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور کولمبیا کی گوریلا تنظیم ایف اے آر سی سمیت متعدد گروپ شامل ہیں اور ان کے یورپی ممالک میں اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال تنظیم کے رکن ملک بلغاریہ میں اسرائیلی سیاحوں کی بس پر بم حملے کے بعد سے یورپی ممالک میں حزب اللہ کے بارے میں شکوک پائے جارہے ہیں۔مارچ میں قبرص کی ایک عدالت نے حزب اللہ کے ایک مبینہ رکن کو حملوں کی سازش کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔

حالیہ مہینوں کے دوران حزب اللہ کی شامی تنازعے میں مداخلت کے بعد یورپی یونین کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔حزب اللہ کے جنگجو شام کے مختلف علاقوں میں صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں اور ان کی لبنان سے شام آزادانہ آمد ورفت جاری ہے۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے ماہرین حزب اللہ کی ان کارروائیوں کے بعد اس کو دہشت گرد قرار دینے پر غور کررہے ہیں لیکن وہ متعدد ممالک کی جانب سے اعتراضات کے بعد اس حوالے سے اتفاق رائے سے کسی فیصلے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

فرانس ،جرمنی اور نیدر لینڈز نے حزب اللہ کو بلیک لسٹ قرار دینے کے لیے برطانوی تجویز کی حمایت کی ہے۔اگرچہ یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کے حامی ہیں لیکن اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تنظیم کے تمام رکن ممالک میں اتفاق رائے ضروری ہے۔

حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے کے مخالف ممالک کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سیاسی لحاظ سے عدم استحکام کا شکار لبنان میں صورت حال مزید بگڑ جائے گی کیونکہ وہاں حزب اللہ مخلوط حکومت میں شامل ہے۔ان ممالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تجویز پر عمل درآمد بہت ہی مشکل ہوگا کیونکہ حزب اللہ کے سیاسی اور عسکری شعبوں میں تمیز نہیں کی جاسکے گی۔

یاد رہے کہ امریکا ،کینیڈا اور اسرائیل نے حزب اللہ کو بلیک لسٹ قرار دے رکھا ہے اور ان ممالک نے اپنے ہاں اس کے بنک اثاثے منجمد کردیے تھے۔یورپ میں اب تک صرف نیدرلینڈز نے حزب اللہ کو دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے جبکہ برطانیہ نے اس کے عسکری ونگ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔