.

امریکی "پرزم" کا پردہ چاک کرنے کے الزام میں سنوڈن پر فرد جرم عاید

ہانگ کانگ سے ایڈورڈ سنوڈن کی امریکا حوالگی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے نگرانی کے خفیہ امریکی پروگراموں کو عام کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن پر فردِ جرم عائد کر دی ہے اور اس کی امریکا واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن پر الزام ہے کہ اس نے نگرانی کے ایک انتہائی خفیہ پروگرام کا انکشاف کیا، جس کے ردِعمل میں امریکا کو عوامی غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی محکمہ انصاف نے این ایس اے کے نگرانی کے مقدمے میں جمعے کو سنوڈن پر جاسوسی اور حکومتی دستاویزات کی چوری کی فردِ جرم عائد کی ہے۔

ورجنیا میں الیگزینڈریہ کی وفاقی عدالت میں جمعہ کو سنوڈن کے خلاف ایک صفحے پر مشتمل شکایت پیش کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سنوڈن قومی دفاع کی معلومات کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث رہا ہے اور اس نے دانستہ طور پر خفیہ معلومات عام کیں۔ دونوں الزامات جاسوسی کے ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔ اس پر حکومتی دستاویزات کی چوری کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان تینوں الزامات پر زیادہ سے زیادہ دس برس کی سزائے قید ہو سکتی ہے۔

خیال ہے کہ سنوڈن ہانک کانگ میں کہیں روپوش ہے۔ وہ تسلیم کر چکا ہے کہ اس نے این ایس اے کے نگرانی کے دو انتہائی خفیہ پروگراموں کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو فراہم کی تھیں۔

وہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے میں ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتا رہا تھا۔ وہ ہوائی میں این ایس اے کے ایک دفتر میں کام کر رہا تھا، جہاں سے اس نے ذرائع ابلاغ کو فراہم کرنے کے لیے دستاویزات کاپی کی تھیں۔

سنوڈن کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات سب سے پہلے گارڈین میں شائع ہوئی تھیں، جن کے مطابق این ایس اے لاکھوں افراد کا ٹیلی فون ریکارڈ اور انٹرنیٹ ڈیٹا جمع کر رہی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ گفتگو کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔

گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس کے مطابق این ایس اے اور امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کو گُوگل، یاہو، فیس بُک اور ایپل سمیت نو بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز تک رسائی بھی حاصل ہے۔

سنوڈن کے خلاف عدالت میں پیش کی گئی شکایت پر 14 جون کی تاریخ درج ہے۔ اس کے سامنے آنے کے ردِعمل میں ڈیموکریٹ سینیٹر بِل نیلسن نے کہا ہے: ’’میں ہمیشہ سوچتا رہا ہوں کہ یہ غداری کے ایکٹ میں آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی محکمہ ء انصاف بھی ایسا ہی سوچتا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ ہانگ کانگ کی حکومت اسے حراست میں لے کر امریکا کے حوالے کر دے گی۔‘‘